Book Name:Zoq-e-Naat

ہیچ کاروں پر کرم ہے پر ضرور

 

اچھے اچھوں کے ہیں گاہک ہر کہیں

ہم بدوں کی ہے خریداری یہیں

 

کیجیے رحمت حسنؔ پر کیجیے

دونوں عالم کی مرادیں دیجیے

رباعیات

جانِ گلزارِ مصطفائی تم ہو

مختار ہو مالکِ خدائی تم ہو

جلوہ سے تمہارے ہے عیاں شانِ خدا

آئینۂ ذاتِ کبریائی تم ہو

دیگر

یارانِ نبی کا وَصف کس سے ہو ادا

ایک ایک ہے ان میں ناظمِ نظمِ ہُدیٰ

پائے کوئی کیونکر اس رُباعی کا جواب

اے اہل سخن جس کا مصنف ہو خدا

دیگر

بدکار ہیں عاصی ہیں زیاں کار ہیں ہم

تعزیر کے بے شبہ سزاوار ہیں ہم

یہ سب سہی پر دل کو ہے اس سے قوت

اللّٰہ    کریم     ہے    گنہگار    ہیں    ہم

دیگر

خاطی ہوں سیہ ُرو ہوں خطاکار ہوں میں

جو کچھ ہو حسنؔ سب کا سزاوار ہوں میں

پر اس کے کرم پر ہے بھروسہ بھاری

اللّٰہ  ہے  شاہد  کہ  گنہ  گار  ہوں  میں

دیگر

اس درجہ ہے ضعف جاں گزائے اسلام

ہیں جس سے ضعیف سب قوائے اسلام

اے مرتوں کی جان کے بچانے والے

اب ہے تِرے ہاتھ میں دوائے اسلام

دیگر

کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام

کب تک رہے ضعف جاں گذائے اسلام

پھر ازسر نو اس کو توانا کر دے

اے حامیٔ اسلام خدائے اسلام

دیگر

ہے شام قریب چھپی جاتی ہے ضو

منزل ہے بعید تھک گیا رَہرو

 



Total Pages: 158

Go To