Book Name:Zoq-e-Naat

رکھ دیا جب اس نے پتھر پر قدم

صاف اک آئینہ پیدا ہوگیا

 

دور ہو مجھ سے جو اُن سے دور ہے

اس پہ میں صدقے جو ان کا ہوگیا

 

گرمیٔ بازار مولیٰ بڑھ چلی

ِ نرخِ رحمت خوب سستا ہوگیا

 

دیکھ کر اُن کا فروغِ حسنِ پا

مہرِ ذَرَّہ چاند تارا ہوگیا

 

رَبِّ    سَلِّم    وہ    اِدھر   کہنے    لگے

اس طرف پار اپنا بیڑا ہوگیا

 

ان کے جلووں میں ہیں یہ دلچسپیاں

جو وہاں پہنچا وہیں کا ہوگیا

 

تیرے ٹکڑوں سے پلے دونوں جہاں

سب کا اس در سے گزارا ہوگیا

 

اَلسَّلَام اے ساکنانِ ُکوئے دوست

ہم بھی آتے ہیں جو اِیما ہوگیا

 

اُن کے صدقہ میں عذابوں سے چھٹے

کام اپنا نام اُن کا ہوگیا

 

سر وہی جو اُن کے قدموں سے لگا

دل وہی جو اُن پہ شیدا ہوگیا

 

حسن یوسف پر زُلیخا مٹ گئیں

آپ       پر      اللّٰہ       پیارا      ہو گیا

 

اس کو شیروں پر شرف حاصل ہوا

آپ کے دَر کا جو کتا ہوگیا

 

زاہدوں کی خلد پر کیا دھوم تھی

کوئی جانے گھر یہ ان کا ہوگیا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To