Book Name:Zoq-e-Naat

پاؤں کیسے جان تک رَنجور ہے

 

مغربی گوشوں میں پھوٹی ہے شفق

زَردیٔ خورشید سے ہے رنگ فق

 

راہ نامعلوم صحرا پرخطر

کوئی ساتھی ہے نہ کوئی راہبر

 

طائروں نے بھی بسیرا لے لیا

خواہش پرواز کو رخصت کیا

 

ہر طرف کرتا ہوں حیرت سے نگاہ

پر نہیں ملتی کسی صورت سے راہ

 

سو بلائیں چشمِ تر کے سامنے

یاس کی صورت نظر کے سامنے

 

دل پریشاں بات گھبرائی ہوئی

شکل پر اَفسردَگی چھائی ہوئی

 

ظلمتیں شب کی غضب ڈھانے لگیں

کالی کالی بدلیاں چھانے لگیں

 

ان بلاؤں میں پھنسا ہے خانہ زاد

آفتوں میں مبتلا ہے خانہ زاد

 

اے عرب کے چاند اے مہرِ عجم

اے خدا کے نور اے شمعِ حرم

 

فرش کی زینت ہے دَم سے آپ کے

عرش کی عزت قدم سے آپ کے

 

آپ سے ہے جلوۂ حق کا ظہور

آپ ہی ہیں نور کی آنکھوں کے نور

 

آپ سے روشن ہوئے کون و مکاں

آپ سے پُر نور ہے بزمِ جہاں

 

اے خداوند عرب شاہ عجم

کیجیے ہندی غلاموں پر کرم

 



Total Pages: 158

Go To