Book Name:Zoq-e-Naat

کھول دی تجھ سے بہت پہلے حقیقت تیری

 

زَلزلے نجد میں پیدا ہوں فتن برپا ہوں

یعنی ظاہر ہو زمانہ میں شرارت تیری

 

ہو اُسی خاک سے شیطان کی سنگت پیدا

دیکھ لے آج ہے موجود جماعت تیری

 

سر مُنڈے ہوں گے تو پاجامے گھٹنے ہوں گے

سر سے پا تک ہے یہی پوری شباہت تیری

 

اِدَّعا ہوگا حدیثوں پہ عمل کرنے کا

نام رکھتی ہے یہی اپنا جماعت تیری

 

اُن کے اَعمال پہ رَشک آئے مسلمانوں کو

اس سے تو شاد ہوئی ہوگی طبیعت تیری

 

لیکن اُترے گا نہ قرآن گلوں سے نیچے

ابھی گھبرا نہیں باقی ہے حکایت تیری

 

نکلیں گے دین سے یوں جیسے نشانہ سے تیر

آج اس تیر کی نخچیر ہے سنگت تیری

 

اپنی حالت کو حدیثوں سے مطابق کر لے

آپ کھل جائے گی پھر تجھ پہ خباثت تیری

 

چھوڑ کر ذکر ترا اَب ہے خطاب اَپنوں سے

کہ ہے مَبغُوض مجھے دِل سے حکایت تیری

 

مِرے پیارے مِرے اپنے مِرے سنی بھائی

آج کرنی ہے مجھے تجھ سے شکایت تیری

 

تجھ سے جو کہتا ہوں تو دل سے سن انصاف بھی کر

کرے    اللّٰہ  کی    توفیق   حمایت   تیری

 

گر تِرے باپ کو گالی دے کوئی بے تہذیب

غصہ آئے ابھی کچھ اور ہو حالت تیری

 

گالیاں دیں انہیں شیطان لعین کے پَیرو

جن کے صدقہ میں ہے ہر دولت و نعمت تیری

 



Total Pages: 158

Go To