Book Name:Zoq-e-Naat

علم شیطاں کا ہوا علم نبی سے زائد

پڑھوں لَاحَوْل نہ کیوں دیکھ کے صورت تیری

 

بزمِ میلاد ہو کانا۱؎ کے جنم سے بدتر

اَرے اَندھے اَرے مردُود یہ جرأت تیری

 

علم غیبی میں مجانین و بہائم کا شمول

کفر آمیز جنوں زا ہے جہالت تیری

 

یادِ خر سے ہو نمازوں میں خیال اُن کا برا

اُف جہنم کے گدھے اُف یہ خرافت تیری

 

اُن کی تعظیم کرے گا نہ اگر وقت نماز

ماری جائے گی ترے منہ پہ عبادت تیری

 

ہے کبھی بوم کی حلت تو کبھی زاغ حلال

جیفہ خواری کی کہیں جاتی ہے عادت تیری

 

ہنس کی چال تو کیا آتی گئی اپنی بھی

اِجتہادوں ہی سے ظاہر ہے حماقت تیری

 

کھلے لفظوں میں کہے قاضیِ شوکاں مدد دے

یاعلی سن کے بگڑ جائے طبیعت تیری

 

تیری اَٹکے تو وکیلوں سے کرے اِستمداد

اور طبیبوں سے مدد خواہ ہو علت تیری

 

ہم جو  اللّٰہ  کے پیاروں سے  اِعانت  چاہیں

شرک کا چرک اُگلنے لگی ملت تیری

 

عبد وہاب کا بیٹا ہوا شیخ نجدی

اس کی تقلید سے ثابت ہے ضلالت تیری

 

اُسی مشرک کی ہے تصنیف کتاب التوحید

جس کے ہر فقرہ پہ ہے مہر صداقت تیری

 

ترجمہ اس کا ہوا تفویۃ الایماں نام

جس سے بے نور ہوئی چشم بصیرت تیری

 

واقف غیب کا اِرشاد سناؤں جس نے

 



Total Pages: 158

Go To