Book Name:Zoq-e-Naat

مٹا دی دین کے ہمراہ عزت شرم و غیرت کی

 

مگر شیر خدا کا شیر جب بپھرا غضب آیا

پَرے ٹوٹے نظر آنے لگی صورت ہزیمت کی

 

کہا یہ بوسہ دے کر ہاتھ پر جوشِ دِلیری نے

بہادر آج سے کھائیں گے قسمیں اس شجاعت کی

 

تصدق ہو گئی جانِ شجاعت سچے تیور کے

فدا شیرانہ حملوں کی اَدا پر رُوح جرأت کی

 

نہ ہوتے گر حسین ابن علی اس پیاس کے بھوکے

نکل آتی زمینِ کربلا سے نہر جنت کی

 

مگر مقصود تھا پیاسا گلا ہی ان کو کٹوانا

کہ خواہش پیاس سے بڑھتی رہے رویت کے شربت کی

 

شہیدِ ناز رکھ دیتا ہے گردن آبِ خنجر پر

جو موجیں باڑ پر آ جاتی ہیں دَریائے اُلفت کی

 

یہ وقت زخم نکلا خوں اُچھل کر جسم اَطہر سے

کہ روشن ہوگئی مشعل شبستانِ محبت کی

 

سر بے تن تن آسانی کو شہر طیبہ میں پہنچا

تن بے سر کو سرداری ملی ملک شہادت کی

 

حسنؔ سنی ہے پھر اِفراط و تفریط اس سے کیونکر ہو

اَدَب کے ساتھ رہتی ہے رَوِش اَربابِ سنت کی

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

نجدیا سخت ہی گندی ہے طبیعت تیری

کفر کیا شرک کا فضلہ ہے نجاست تیری

 

خاک منہ میں تِرے کہتا ہے کسے خاک کا ڈھیر

مٹ گیا دِین ملی خاک میں عزت تیری

 

تیرے نزدیک ہوا کذبِ الٰہی ممکن

تجھ پہ شیطان کی پھٹکار یہ ہمت تیری

 

بلکہ کذاب کیا تونے تو اِقرارِ وُقوع

اُف رے ناپاک یہاں تک ہے خباثت تیری

 



Total Pages: 158

Go To