Book Name:Zoq-e-Naat

کہ بزمِ گل رُخاں  میں لے بلائیں کس کی صورت کی

 

جدا ہوتی ہیں جانیں جسم سے جاناں سے ملتے ہیں

ہوئی ہے کربلا میں گرم مجلس وصل و فرقت کی

 

اسی منظر پہ ہر جانب سے لاکھوں کی نگاہیں ہیں

اسی عالم کو آنکھیں تک رہی ہیں ساری خلقت کی

 

ہوا چھڑکاؤ پانی کی جگہ اَشکِ یتیماں سے

بجائے فرش آنکھیں بچھ گئیں اہلِ بصیرت کی

 

ہوائے یار نے پنکھے بنائے پر فرشتوں کے

سبیلیں رکھی ہیں دیدار نے خود اپنے شربت کی

 

اُدھر اَفلاک سے لائے فرشتے ہار رحمت کے

اِدھر ساغر لئے حوریں چلی آتی ہیں جنت کی

 

سجے ہیں زخم کے پھولوں سے وہ رنگین گلدستے

بہارِ خوشنمائی پر ہے صدقے رُوح جنت کی

 

ہوائیں گلشن فردَوس سے بس بس کر آتی ہیں

نرالی عطر میں ڈوبی ہوئی ہے رُوح نکہت کی

 

دِل پُر سوز کے سلگے اگر سوز ایسی کثرت سے

کہ پہنچی عرش و طیبہ تک لپٹ سوزِ محبت کی

 

اُدھر چلمن اٹھی حسن اَزَل کے پاک جلوؤں سے

اَدھر چمکی تجلی بدرِ تابانِ رسالت کی

 

زمین کربلا پر آج ایسا حشر برپا ہے

کہ کھنچ کھنچ کر مٹی جاتی ہیں تصویریں قیامت کی

 

گھٹائیں مصطفیٰ کے چاند پر گھر گھر کر آتی ہیں

سیہ کارانِ اُمت تیرہ بختانِ شقاوَت کی

 

یہ کس کے خون کے پیاسے ہیں اُسکے خون کے پیاسے

بجھے گی پیاس جس سے تشنہ کامانِ قیامت کی

 

اکیلے پر ہزاروں کے ہزاروں وَار چلتے ہیں

 

 



Total Pages: 158

Go To