Book Name:Zoq-e-Naat

بلا کر اپنے کتے کو نہ دیں چمکار کر ٹکڑا

پھر اس شانِ کرم پر فہم سے یہ بات باہر ہے

 

تذبذب مغفرت میں کیوں رہے اس دَر کے زائر کو

کہ یہ درگاہِ والا رحمت خالص کا منظر ہے

 

مبارک ہو حسنؔ سب آرزوئیں ہو گئیں پوری

اب اُن کے صدقے میں عیش اَبد تجھ کو میسر ہے

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزار جنت کی

بہاروں پر ہیں آج آرائشیں گلزارِ جنت کی

سواری آنے والی ہے شہیدانِ محبت کی

 

کھلے ہیں گل بہاروں پر ہے پھلواری جراحت کی

فضا ہر زخم کی دامن سے وابستہ ہے جنت کی

 

گلا کٹوا کے بیڑی کاٹنے آئے ہیں اُمت کی

کوئی تقدیر تو دیکھے اَسیرانِ مصیبت کی

 

شہیدِ ناز کی تفریح زخموں سے نہ کیونکر ہو

ہوائیں آتی ہیں اُن کھڑکیوں سے باغِ جنت کی

 

کرم والوں نے دَر کھولا تو رحمت نے سماں باندھا

کمر باندھی تو قسمت کھول دی فضلِ شہادت کی

 

علی کے پیارے خاتونِ قیامت کے جگر پارے

زمیں سے آسماں تک دُھوم ہے ان کی سیادت کی

 

زمینِ کربلا پر آج مجمع ہے حسینوں کا

جمی ہے اَنجمن رَوشن ہیں شمعیں نور و ظلمت کی

 

یہ وہ شمعیں نہیں جو پھونکدیں اپنے فدائی کو

یہ وہ شمعیں نہیں رو کر جو کاٹیں رات آفت کی

 

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے جان تازہ پائیں پروانے

یہ وہ شمعیں ہیں جو ہنس کر گزاریں شب مصیبت کی

 

یہ وہ شمعیں نہیں جن سے فقط اِک گھر منور ہو

یہ وہ شمعیں ہیں جن سے رُوح ہو کافور ظلمت کی

 

دلِ حور و ملائک رہ گیا حیرت زَدہ ہو کر

 



Total Pages: 158

Go To