Book Name:Zoq-e-Naat

عطائے بانوا ہر بے نوا سے شیر وشکر ہے

 

کوئی لپٹا ہے فرطِ شوق میں روضہ کی جالی سے

کوئی گردن جھکائے رعب سے بادیدۂ تر ہے

 

کوئی مشغولِ عرضِ حال ہے یوں شادماں ہو کر

کہ یہ سب سے بڑی سرکار ہے تقدیر یاوَر ہے

 

کمینہ بندۂ دَر عرض کرتا ہے حضوری میں

جو موروثی یہاں کا مدح گستر ہے ثنا گر ہے

 

تری رحمت کے صدقے یہ تری رحمت کا صدقہ تھا

کہ ان ناپاک آنکھوں کو یہ نظارہ میسر ہے

 

ذلیلوں کی تو کیا گنتی سلاطین زمانہ کو

تری سرکار عالی ہے ترا دَربار برتر ہے

 

تری دولت تری ثروَت تری شوکت جلالت کا

نہ ہے کوئی زمیں پر اَور نہ کوئی آسماں پر ہے

 

مطاف و کعبہ کا عالم دکھایا تو نے طیبہ میں

ترا گھر بیچ میں چاروں  طرف  اللّٰہ  کا گھر ہے

 

تجلی پر تری صدقے ہے مہر و ماہ کی تابش

پسینے پر ترے قربان روحِ مشک و عنبر ہے

 

غم و افسوس کا دافع اِشارہ پیاری آنکھوں کا

دلِ مایوس کی حامی نگاہِ بندہ پروَر ہے

 

جو سب اچھوں میں ہے اچھا جو ہر بہتر سے ہے بہتر

ترے صدقے سے اچھا ہے ترے صدقے میں بہتر ہے

 

رکھوں میں حاضری کی شرم ان اَعمال پر کیونکر

مرے اِمکان سے باہر مری قدرت سے باہر ہے

 

اگر شانِ کرم کو لاج ہو میرے بلانے کی

تو میری حاضری دونوں جہاں میں میری یاوَر ہے

 

مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں میں ایسی باتیں کرتا ہوں

یہاں بھی یاس و محرومی یہ کیونکر ہو یہ کیونکر ہے

 



Total Pages: 158

Go To