Book Name:Zoq-e-Naat

اَرے  او سونے والے دِل ا رےاو سونے  والے دِل

سحر ہے جاگ غافل دیکھ تو عالم منور ہے

 

سہانی طرز کی طلعت نرالے رنگ کی نکہت

نسیمِ صبح سے مہکا ہوا پرنور منظر ہے

 

تَعَالَی اللّٰہ  یہ  شادابی  یہ  رنگینی  تَعَالَی اللّٰہ

بہارِ ہشت جنت دَشت طیبہ پر نچھاوَر ہے

 

ہوائیں آرہی ہیں کوچۂ پرنورِ جاناں کی

کھلی جاتی ہیں کلیاں تازگی دل کو مُیَسر ہے

 

منور چشم زائر ہے جمالِ عرشِ اَعظم سے

نظر میں سبز قبہ کی تجلی جلوہ گستر ہے

 

یہ رفعت دَرگہِ عرش آستاں کے قرب سے پائی

کہ ہر ہر سانس ہر ہر گام پر معراجِ دیگر ہے

 

محرم کی نویں تاریخ بارہ منزلیں کرکے

وہاں پہنچے وہ گھر دیکھا جو گھر اللّٰہ کا گھر ہے

 

نہ پوچھو ہم کہاں پہنچے اور ان آنکھوں نے کیا دیکھا

جہاں پہنچے وہاں پہنچے جو دیکھا دل کے اندر ہے

 

ہزاروں بے نواؤں کے ہیں جمگھٹ آستانہ پر

طلب دل میں صدائے یَارَسُوْلَ اللّٰہ لب پر ہے

 

لکھا ہے خامۂ رحمت نے دَر پر خطِّ قدرت سے

جسے یہ آستانہ مل گیا سب کچھ میسر ہے

 

خدا ہے اس کا مالک یہ خدائی بھر کا مالک ہے

خدا ہے اس کا مولیٰ یہ خدائی بھر کا سروَر ہے

 

زمانہ اس کے قابو میں زمانے والے قابو میں

یہ ہر دفتر کا حاکم ہے یہ ہر حاکم کا اَفسر ہے

 

عطا کے ساتھ ہے مختار رحمت کے خزانوں کا

خدائی پر ہے قابو بس خدا ہی اس سے باہر ہے

 

کرم کے جوش ہیں بذل و نعم کے دور دَورے ہیں

 



Total Pages: 158

Go To