Book Name:Zoq-e-Naat

چلے  آؤ  چلے  آؤ  یہ  گھر   رَحْمٰن  کا  گھر  ہے

 

مقامِ حضرتِ خلت پدر سا مہرباں پایا

کلیجہ سے لگانے کو حطیم آغوشِ مَادَر ہے

 

لگاتا ہے غلافِ پاک کوئی چشم پرنم سے

لپٹ کر ملتزم سے کوئی محوِ وصلِ دِلبر ہے

 

وطن اور اس کا تڑکا صدقے اس شامِ غریبی پر

کہ نورِ رُکن شامی رُوکشِ صبح منور ہے

 

ہوئے اِیمان تازہ بوسۂ رُکن یمانی سے

فدا ہو جاؤں یمن و اَیمنی کا پاک منظر ہے

 

یہ زمزم اس لئے ہے جس لئے اس کو پئے کوئی

اسی زَمزم میں جنت ہے اسی زَمزم میں کوثر ہے

 

شفا کیوں کر نہ پائیں نیم جاں زہر معاصی کے

کہ نظارہ عراقی رکن کا تریاقِ اَکبر ہے

 

صفائے قلب کے جلوے عیاں ہیں سعی مسعٰی سے

یہاں کی بے قراری بھی سکونِ جانِ مضطر ہے

 

ہوا ہے پیر کا حج پیر نے جن سے شرف پایا

انہیں کے فضل سے دن جمعہ کا ہر دن سے بہتر ہے

 

نہیں کچھ جمعہ پر موقوف اَفضال و کرم اُن کے

جو وہ مقبول فرما لیں تو ہر حج حج اَکبر ہے

 

حسنؔ حج کر لیا کعبہ سے آنکھوں نے ضیا پائی

چلو دیکھیں وہ بستی جس کا رَستہ دِل کے اندر ہے

سحر چمکی جمال فصل گل آرائشوں پر ہے

سحر چمکی جمالِ فصل گل آرائشوں پر ہے

نسیم رُوح پروَر سے مشامِ جاں معطر ہے

 

قریبِ طیبہ بخشے ہیں تصور نے مزے کیا کیا

مرا دل ہے مدینہ میں مدینہ دل کے اندر ہے

 

ملائک سر جہاں اپنا جھجکتے ڈرتے رکھتے ہیں

قدم ان کے گنہگاروں کا ایسی سر زمیں پر ہے

 



Total Pages: 158

Go To