Book Name:Zoq-e-Naat

جان دی تو نے مسیحا و مسیحائی کو

تو ہی تو جانِ مسیحا و مسیحائی ہے

 

چشم بے خواب کے صدقے میں ہیں بیدار نصیب

آپ جاگے تو ہمیں چین کی نیند آئی ہے

 

باغِ فردَوس کھلا فرش بچھا عرش سجا

اِک تِرے دَم کی یہ سب اَنجمن آرائی ہے

 

کھیت سر سبز ہوئے پھول کھلے میل دُھلے

اَور پھر فضل کی گھنگور گھٹا چھائی ہے

 

ہاتھ پھیلائے ہوئے دَوڑ پڑے ہیں منگتا

میرے داتا کی سواری سر حشر آئی ہے

 

ناامیدو تمہیں مژدہ کہ خدا کی رحمت

انہیں محشر میں تمہارے ہی لئے لائی ہے

 

فرش سے عرش تک اِک دُھوم ہے اللّٰہ اللّٰہ

اور ابھی سینکڑوں پردوں میں وہ زیبائی ہے

 

اے حسنؔ ُحسنِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں

ذَرّے ذَرّے سے عیاں جلوۂ زیبائی ہے

حضور کعبہ حاضر ہیں  حرم کی خاک پر سر ہے

حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے

بڑی سرکار میں پہنچے مقدر یاوَری پر ہے

 

نہ ہم آنے کے لائق تھے نہ مونھ قابل دکھانے کے

مگر اُن کا کرم ذَرَّہ نواز و بندہ پروَر ہے

 

خبر کیا ہے بھکاری کیسی کیسی نعمتیں پائیں

یہ اونچا گھر ہے اس کی بھیک اَندازہ سے باہر ہے

 

تصدق ہو رہے ہیں لاکھوں بندے گرد پھر پھر کر

طوافِ خانۂ کعبہ عجب دلچسپ منظر ہے

 

خدا کی شان یہ لب اور بوسہ سنگ اَسود کا

ہمارا مونھ اَور اس قابل عطائے ربِّ اَکبر ہے

 

جو ہیبت سے رُکے مجرم تو رحمت نے کہا بڑھ کر

 



Total Pages: 158

Go To