Book Name:Zoq-e-Naat

کبھی خود اپنے تحیر پہ حیراں رہتا

کبھی خود اپنے سمجھنے کو نہ سمجھا کرتا

 

کبھی کہتا کہ یہ کیا بزم ہے کیسی ہے بہار

کبھی اَندازِ تجاہل سے میں توبہ کرتا

 

کبھی کہتا کہ یہ کیا جوشِ جنوں ہے ظالم

کبھی پھر گر کے تڑپنے کی تمنا کرتا

 

ستھری ستھری وہ فضا دیکھ کے میں غرقِ گناہ

اپنی آنکھوں میں خود اس بزم میں کھٹکا کرتا

 

کبھی رحمت کے تصور میں ہنسی آجاتی

پاسِ آداب کبھی ہونٹوں کو بخیہ کرتا

 

دِل اگر رَنجِ مَعاصی سے بگڑنے لگتا

عفو کا ذِکر سنا کر میں سنبھالا کرتا

 

یہ مزے خوبیٔ قسمت سے جو پائے ہوتے

سخت دیوانہ تھا گر خلد کی پرواہ کرتا

 

موت اس دن کو جو پھر نام وطن کا لیتا

خاک اس سر پہ جو اس دَر سے کنارا کرتا

 

اے حسنؔ قصدِ مدینہ نہیں رونا ہے یہی

اور میں آپ سے کس بات کا شکوہ کرتا

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

عاصیوں کو در تمہارا مل گیا

بے ٹھکانوں کو ٹھکانہ مل گیا

 

فضلِ رب سے پھر کمی کس بات کی

مل گیا سب کچھ جو طیبہ مل گیا

 

کشفِ   رازِ   مَن    رَّاٰنی    یوں    ہوا

تم ملے تو حق تعالیٰ مل گیا

 

بیخودی ہے باعثِ کشفِ ِحجاب

مل گیا ملنے کا رستہ مل گیا

 

 

 



Total Pages: 158

Go To