Book Name:Zoq-e-Naat

کہ وہ جب بھی تھے پالنے والے

 

پار کر ناؤ ہم غریبوں کی

ڈُوبتوں کو نکالنے والے

 

خاکِ طیبہ میں بے نشاں ہو جا

اَرے اَو نام اُچھالنے والے

 

کام کے ہوں کہ ہم نکمے ہوں

وہ سبھی کے ہیں پالنے والے

 

زَنگ سے پاک صاف کر دل کو

اَندھے شیشے اُجالنے والے

 

خارِ غم کا حسنؔ کو کھٹکا ہے

دِل سے کانٹا نکالنے والے

اللّٰہ اللّٰہ شہ کونین جلالت تیری

اللّٰہ    اللّٰہ    شہِ   کونین    جلالت    تیری

فرش کیا عرش پہ جاری ہے حکومت تیری

 

جھولیاں کھول کے بے سمجھے نہیں دوڑ آئے

ہمیں معلوم ہے دولت تری عادت تیری

 

تو ہی ہے مُلکِ خدا مِلکِ خدا کا مالک

راج تیرا ہے زمانہ میں حکومت تیری

 

تیرے اَنداز یہ کہتے ہیں کہ خالق کو ترے

سب حسینوں میں پسند آئی ہے صورت تیری

 

اس نے حق دیکھ لیا جس نے ادھر دیکھ لیا

کہہ رہی ہے یہ چمکتی ہوئی طلعت تیری

 

بزمِ محشر کا نہ کیوں جائے بلاوا سب کو

کہ زمانہ کو دکھانی ہے وَجاہت تیری

 

عالم رُوح پہ ہے عالم اَجسام کو ناز

چوکھٹے میں ہے عناصر کے جو صورت تیری

 

جن کے سر میں ہے ہوا دشت نبی کی رِضواں

 



Total Pages: 158

Go To