Book Name:Zoq-e-Naat

قابل دِید ہیں اَنداز تمنائی کے

 

لب جاں بخش کی کیا بات ہے سُبْحَانَ اللّٰہ

تم نے زندہ کیے اعجاز مسیحائی کے

 

اپنے دامن میں چھپائیں وہ مرے عیبوں کو

اے زہے بخت مری ذِلت و رسوائی کے

 

دیکھنے والے خدا کے ہیں خدا شاہد ہے

دیکھنے والے تِرے جلوۂ زیبائی کے

 

جب غبارِ رَہِ محبوب نے عزت بخشی

آئنے صاف ہوئے عینکِ بینائی کے

 

بار سر پر ہے نقاہت سے گرا جاتا ہوں

صدقے جاؤں ترے بازو کی توانائی کے

 

عَالِمُ  الْغَیْب  نے  ہر  غیب  سے  آگاہ  کیا

صدقے اِس شان کی بینائی و دانائی کے

 

دیکھنے والے ہو تم رات کی تاریکی میں

کان میں سمع کے اور آنکھ میں بینائی کے

 

غیبی نطفے ہیں وہ بے علم جنم کے اندھے

جن کو انکار ہیں اس علم و شناسائی کے

 

اے حسنؔ کعبہ ہی افضل سہی اس در سے مگر

ہم تو خوگر ہیں یہاں ناصیہ فرسائی کے

پردے جس وقت اٹھیں جلوۂ زیبائی کے

پردے جس وقت اُٹھیں جلوۂ زیبائی کے

وہ نگہبان رہیں چشمِ تمنائی کے

 

دھوم ہے فرش سے تا عرش تری شوکت کی

خطبے ہوتے ہیں جہانبانی و دارائی کے

 

حسن رنگینی و طلعت سے تمہارے جلوے

گل و آئینہ بنے محفل و زیبائی کے

 

ذَرَّۂ دشتِ مدینے کی ضیا مہر کرے

اچھی ساعت سے پھریں دن شب تنہائی کے

 



Total Pages: 158

Go To