Book Name:Zoq-e-Naat

نہ کیوں ہو اِتحادِ منزلت مکہ مدینہ میں

وہ  بستی  ہے  نبی  والی  تو  یہ اللّٰہ   والی  ہے

 

شرف مکہ کی بستی کو ملا طیبہ کی بستی سے

نبی والی ہی کے صدقے میں وہ اللّٰہ  والی ہے

 

وہی والی وہی آقا وہی وارِث وہی مولیٰ

میں اُن کے صدقے جاؤں اور میرا کون والی ہے

 

پکار اے جانِ عیسیٰ سن لو اپنے خستہ حالوں کی

مرض نے درد مندوں کی غضب میں جان ڈالی ہے

 

مرادوں سے تمہیں دامن بھرو گے نامرادوں کے

غریبوں بیکسوں کا اَور پیارے کون والی ہے

 

ہمیشہ تم کرم کرتے ہو بگڑے حال والوں پر

بگڑ کر مری حالت نے مری بگڑی بنا لی ہے

 

تمہارے دَر تمہارے آستاں سے میں کہاں جاؤں

نہ مجھ سا کوئی بیکس ہے نہ تم سا کوئی والی ہے

 

حسنؔ کا دَرد دُکھ موقوف فرما کر بحالی دو

تمہارے ہاتھ میں دنیا کی موقوفی بحالی ہے

کرے چارہ سازی زیارت کسی کی

کرے چارہ سازی زِیارت کسی کی

بھرے زخم دل کے مَلاحت کسی کی

 

چمک کر یہ کہتی ہے طلعت کسی کی

کہ دیدارِ حق ہے زِیارت کسی کی

 

نہ رہتی جو پردوں میں صورت کسی کی

نہ ہوتی کسی کو زِیارت کسی کی

 

عجب پیاری پیاری ہے صورت کسی کی

ہمیں کیا خدا کو ہے اُلفت کسی کی

 

ابھی پار ہوں ڈوبنے والے بیڑے

سہارا لگا دے جو رحمت کسی کی

 

کسی کو کسی سے ہوئی ہے نہ ہو گی

 



Total Pages: 158

Go To