Book Name:Zoq-e-Naat

مُشَبَّک سینۂ عاشق نہیں رَوضہ کی جالی ہے

 

تمہارا قامت یکتا ہے اِکا بزمِ وَحدت کا

تمہاری ذات بے ہمتا مثالِ بے مثالی ہے

 

فروغِ اَخترِ بدْر آفتابِ جلوۂ عارِض

ضیائے طالعِ بدْر اُن کا اَبروئے ہلالی ہے

 

وہ  ہیں  اللّٰہ   والے  جو  تجھے  والی  کہیں  اپنا

کہ  تو   اللّٰہ   والا  ہے  ترا   اللّٰہ   والی  ہے

 

سہارے نے تِرے گیسو کے پھیرا ہے بلاؤں کو

اشارے نے تِرے اَبرو کے آئی موت ٹالی ہے

 

نگہ نے تیر زحمت کے دِلِ اُمت سے کھینچے ہیں

مژہ نے پھانس حسرت کی کلیجہ سے نکالی ہے

 

فقیرو بے نواؤ اپنی اپنی جھولیاں بھرلو

کہ باڑا بٹ رہا ہے فیض پر سرکار عالی ہے

 

تجھی کو خِلعتِ یکتائیِ عالم ملا حق سے

تِرے ہی جسم پر موزوں قبائے بے مثالی ہے

 

نکالا کب کسی کو بزمِ فیض عام سے تم نے

نکالی ہے تو آنے والوں کی حسرت نکالی ہے

 

بڑھے کیونکر نہ پھر شکلِ ہلال اِسلام کی رونق

ہلالِ آسمانِ دِیں تری تیغ ہلالی ہے

 

فقط اِتنا سبب ہے اِنعقادِ بزمِ محشر کا

کہ اُن کی شانِ محبوبی دِکھائی جانے والی ہے

 

خدا شاہد کہ روزِ حشر کا کھٹکا نہیں رہتا

مجھے جب یاد آتا ہے کہ میرا کون والی ہے

 

اُتر سکتی نہیں تصویر بھی ُحسنِ سراپا کی

کچھ اس درجہ ترقی پر تمہاری بے مثالی ہے

 

نہیں محشر میں جس کو دَسترس آقا کے دامن تک

بھرے بازار میں اس بے نوا کا ہاتھ خالی ہے

 



Total Pages: 158

Go To