Book Name:Zoq-e-Naat

کام جو اُن سے ہوا پورا ہوا

اُن کی جو تدبیر ہے تقدیر ہے

 

جس سے باتیں کی انہیں کا ہوگیا

واہ کیا تقریر پرتاثیر ہے

 

جو لگائے آنکھ میں محبوب ہو

خاکِ طیبہ سرمۂ تسخیر ہے

 

صدرِ اَقدس ہے خزینہ راز کا

سینہ کی تحریر میں تحریر ہے

 

ذَرَّہ ذَرَّہ سے ہے طالع نورِ شاہ

آفتابِ ُحسن عالمگیر ہے

 

لطف کی بارش ہے سب شاداب ہیں

اَبر جودِ شاہ عالمگیر ہے

 

مجرمو اُن کی قدم پر لوٹ جاؤ

بس رِہائی کی یہی تدبیر ہے

 

یانبی مشکل ُکشائی کیجیے

بندۂ دَر بے دِل و دِل گیر ہے

 

وہ سراپا لطف ہیں شانِ خدا

وہ سراپا نور کی تصویر ہے

 

کان ہیں کانِ کرم جانِ کرم

آنکھ ہے یا چشمۂ تنویر ہے

 

جانے والے چل دئیے ہم رہ گئے

اپنی اپنی اے حسنؔ تقدیر ہے

نہ ہو مایوس میرے دکھ درد والے

نہ مایوس ہو میرے دُکھ دَرد والے

درِ شہ پہ آ ہر مرض کی دَوا لے

 

جو بیمارِ غم لے رہا ہو سنبھالے

وہ چاہے تو دَم بھر میں اس کو سنبھالے

 

نہ کر اس طرح اے دِلِ زار نالے

 



Total Pages: 158

Go To