Book Name:Zoq-e-Naat

جن کے سایہ میں ہیں ہم دیکھی ہے صورت ان کی

 

حسنِ یوسف دَمِ عیسٰی پہ نہیں کچھ موقوف

جس نے جو پایا ہے پایا ہے بدولت ان کی

 

ان کا کہنا نہ کریں جب بھی وہ چاہیں ہم کو

سرکشی اپنی تو یہ اور وہ چاہت اُن کی

 

پار ہو جائے گا اِک آن میں بیڑا اپنا

کام کر جائے گی محشر میں شفاعت ان کی

 

حشر میں ہم سے گنہگار پریشاں خاطر

عفو رحمن و رحیم اور شفاعت ان کی

 

خاکِ دَر تیری جو چہروں پہ مَلے پھرتے ہیں

کس  طرح  بھائے  نہ  اللّٰہ کو  صورت  ان  کی

 

عاصیو کیوں غم محشر میں مرے جاتے ہو

سنتے ہیں بندہ نوازی تو ہے عادت ان کی

 

جلوۂ شانِ الٰہی کی بہاریں دیکھو

قَدْ  رَاَ  الْحَق کی ہے شرح زیارت ان کی

 

باغِ جنت میں چلے جائیں گے بے پوچھے ہم

وقف ہے ہم سے مساکین پہ دولت اُن کی

 

یاد کرتے ہیں عدو کو بھی دعا ہی سے وہ

ساری دنیا سے نرالی ہے یہ عادت ان کی

 

ہم ہوں اور ان کی گلی خلد میں واعظ ہی رہیں

اے حسنؔ ان کو مبارک رہے جنت ان کی

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

ہم نے تقصیر کی عادت کرلی

آپ اپنے پہ قیامت کرلی

 

میں چلا ہی تھا مجھے روک لیا

مِرے   اللّٰہ    نے   رحمت  کر لی

 

ذِکرِ شہ سن کے ہوئے بزم میں محو

ہم نے جلوت میں بھی خلوت کر لی

 



Total Pages: 158

Go To