Book Name:Zoq-e-Naat

ٹھکانا بے ٹھکانوں کا سہارا بے سہاروں کا

غریبوں کی مدد بیکس کا یاور آنے والا ہے

 

بر آئیں گی مرادیں حسرتیں ہوجائیں گی پوری

کہ وہ مختارِ کل عالم کا سروَر آنے والا ہے

 

مبارک دَرد مندوں کو ہو مژدہ بیقراروں کو

قرارِ دِل شکیبِ جانِ مضطر آنے والا ہے

 

گنہگارو نہ ہو مایوس تم اپنی رِہائی سے

مدد کو وہ شفیعِ روزِ محشر آنے والا ہے

 

جھکا لائے نہ کیوں تاروں کو شوقِ جلوۂ عارِض

کہ وہ ماہ ِدل آرا اَب زمیں پر آنے والا ہے

 

کہاں ہیں بادشاہانِ جہاں آئیں سلامی کو

کہ اب فرماں روائے  ہفت کشور آنے والا ہے

 

سلاطینِ زمانہ جس کے دَر پر بھیک مانگیں گے

فقیروں کو مبارک وہ تونگر آنے والا ہے

 

یہ ساماں ہو رہے تھے مدتوں سے جس کی آمد کے

وہی نوشاہ باصد شوکت و فر آنے والا ہے

 

وہ آتا ہے کہ ہے جس کا فدائی عالمِ بالا

وہ آتا ہے کہ ِدل عالم کا جس پر آنے والا ہے

 

نہ کیوں ذَرَّوں کو ہو فرحت کہ چمکا اَختر قسمت

سحر ہوتی ہے خورشید منور آنے والا ہے

 

حسنؔ کہہ دے اُٹھیں سب امتی تعظیم کی خاطر

کہ اپنا پیشوا اپنا پیمبر آنے والا ہے

جائے گی ہنستی ہو ئی خلد میں امت ان کی

جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت ان کی

کب  گوارا    ہوئی   اللّٰہ  کو   رِقت   ان  کی

 

ابھی پھٹتے ہیں جگر ہم سے گنہ گاروں کے

ٹوٹے دِل کا جو سہارا نہ ہو رحمت ان کی

 

دیکھ آنکھیں نہ دکھا مہر قیامت ہم کو

 



Total Pages: 158

Go To