Book Name:Zoq-e-Naat

لگایا اب تو بستر آپ ہی کے آستانے سے

 

نہ کیوں اُن کی طرف اللّٰہ سو سو پیار سے دیکھے

جو اپنی آنکھیں ملتے ہیں تمہارے آستانے سے

 

تمہارے تو وہ احساں اور یہ نافرمانیاں اپنی

ہمیں تو شرم سی آتی ہے تم کو منہ دکھانے سے

 

بہارِ خلد صدقے ہو رہی ہے رُوئے عاشق پر

کھلی جاتی ہیں کلیاں دِل کی تیرے مسکرانے سے

 

.8زمیں تھوڑی سی دیدے بہر مدفن اپنے کوچہ میں

لگا دے میرے پیارے میری مٹی بھی ٹھکانے سے

 

پلٹتا ہے جو زائر اُس سے کہتا ہے نصیب اُس کا

ارے غافل قضا بہترہے یاں سے پھر کے جانے سے

 

بلالو اپنے دَر پر اب تو ہم خانہ بدوشوں کو

پھریں کب تک ذلیل و خوار دَر دَر بے ٹھکانے سے

 

نہ پہنچے اُن کے قدموں تک نہ کچھ حسن عمل ہی ہے

حسنؔ کیا پوچھتے ہو ہم گئے گزرے زمانے سے

شیطان سے حفاظت

روزانہ دس بار ’’  اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم  ‘‘ پڑھنے والے پر شیطان سے حفاظت کے لیے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے ۔ (فیضان سنت، باب نیکی کی دعوت، ص۱۰۵)

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے

گدائی کو زمانہ جس کے دَر پر آنے والا ہے

 

چکوروں سے کہو ماہِ دِل آرا ہے چمکنے کو

خبر ذَرَّوں کو دو مہر منور آنے والا ہے

 

فقیروں  سے کہو حاضر ہوں  جو مانگیں گے پائیں گے

کہ سلطانِ جہاں محتاج پروَر آنے والا ہے

 

کہو پروانوں سے شمع ہدایت اب چمکتی ہے

خبر دو بلبلوں کو وہ گل تر آنے والا ہے

 

کہاں ہیں ٹوٹی امیدیں کہاں ہیں بے سہارے دل

کہ وہ فریاد رس بیکس کا یاوَر آنے والا ہے

 

 



Total Pages: 158

Go To