Book Name:Zoq-e-Naat

منگتا تو ہے منگتا کوئی شاہوں میں دکھا دے

جس کو مِرے سرکار سے ٹکڑا نہ ملا ہو

 

قدرت نے اَزَل میں یہ لکھا اُن کی جبیں پر

جو اُن کی رضا ہو وہی خالق کی رضا ہو

 

ہر وقت کرم بندہ نوازی پہ تلا ہے

کچھ کام نہیں اس سے برا ہو کہ بھلا ہو

 

سو100  جا سے گنہگار کا ہو رختِ عمل چاک

پردہ نہ کھلے گر تِرے دامن سے بندھا ہو

 

اَبرار نکوکار خدا کے ہیں خدا کے

اُن کا ہے وہ اُن کا ہے جو بد ہو جو برا ہو

 

اے نفس اُنہیں رَنج دیا اپنی بدی سے

کیا قہر کیا تو نے اَرے تیرا برا ہو

 

اللّٰہ    یوں   ہی   عمر  گزر    جائے   گدا    کی

سر خم ہو دَرِ پاک پر اور ہاتھ اُٹھا ہو

 

شاباش حسنؔ اَور چمکتی سی غزل پڑھ

دِل کھول کر آئینۂ اِیماں کی جلا ہو

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو

سینہ پہ تسلی کو ترا ہاتھ دَھرا ہو

 

کیوں اپنی گلی میں وہ روادارِ صدا ہو

جو بھیک لئے راہِ گدا دیکھ رہا ہو

 

گر وقتِ اَجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو

جتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں ادا ہو

 

ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار

رُتبہ سے تنزل کرے تو ظِلِّ ہُما ہو

 

موقوف نہیں صبحِ قیامت ہی پہ یہ عرض

جب آنکھ کھلے سامنے تو جلوہ نما ہو

 

دے اس کو دَمِ نزع اگر حور بھی ساغر

 



Total Pages: 158

Go To