Book Name:Zoq-e-Naat

گر عکس فگن دل میں وہ نقش کف پا ہو

 

اُس دَر کی طرف اس لئے میزاب کا منہ ہے

وہ قبلۂ کونین ہے یہ قبلہ نما ہو

 

بے چین رکھے مجھ کو ترا دَردِ محبت

مٹ جائے وہ دِل پھر جسے اَرمانِ دَوا ہو

 

یہ میری سمجھ میں کبھی آ ہی نہیں سکتا

ایمان مجھے پھیرے کو تو نے دیا ہو

 

اس گھر سے عیاں نورِ الٰہی ہو ہمیشہ

تم جس میں گھڑی بھر کے لیے جلوہ نما ہو

 

مقبول ہیں اَبرو کے اِشارے سے دعائیں

کب تیر کماندارِ نبوت کا خطا ہو

 

ہو سلسلہ اُلفت کا جسے زلفِ نبی سے

الجھے نہ کوئی کام نہ پابندِ بلا ہو

 

شکر ایک کرم کا بھی ادا ہو نہیں سکتا

دل اُن پہ فدا جانِ حسنؔ اُن پہ فدا ہو

تم ذات خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو

اللّٰہ  کو  معلوم   ہے  کیا   جانیے  کیا    ہو

 

یہ کیوں کہوں مجھ کو یہ عطا ہو یہ عطا ہو

وہ دو کہ ہمیشہ میرے گھر بھر کا بھلا ہو

 

جس بات میں مشہورِ جہاں ہے لبِ عیسیٰ

اے جانِ جہاں وہ تری ٹھوکر سے ادا ہو

 

ٹوٹے ہوئے دَم جوش پہ طوفانِ معاصی

دامن نہ ملے ان کا تو کیا جانیے کیا ہو

 

یوں جھک کے ملے ہم سے کمینوں سے وہ جس کو

اللّٰہ  نے   اپنے   ہی   لئے   خاص  کیا   ہو

 

مٹی نہ ہو برباد پس مرگ الٰہی

جب خاک اُڑے میری مدینہ کی ہوا ہو

 



Total Pages: 158

Go To