Book Name:Zoq-e-Naat

دُکھ مرض ہر قسم کا اچھے میاں

 

میری میرے بھائیوں کی حاجتیں

فضل  سے کیجے رَوا  اچھے  میاں

 

ہم غلاموں کے جو ہیں لختِ جگر

خوش رہیں سب دائما اچھے میاں

 

پنجتن کا سایہ پانچوں پر رہے

اور ہو فضل خدا اچھے میاں

 

سب عزیزوں سب قریبوں پر رہے

سایۂ فضل و عطا اچھے میاں

 

غوثِ اعظم قطب عالم کے لیے

رَد نہ ہو میری دعا اچھے میاں

 

ہو حسن سرکار والا کا حسنؔ

کیجیے ایسی عطا اچھے میاں

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو

پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو

 

آستانہ پہ تِرے سر ہو اَجل آئی ہو

اور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو

 

خاکِ پامال غریبوں کو نہ کیوں زندہ کرے

جس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو

 

اُس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت

خاکِ طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو

 

تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پر

ہم کو حاصل شرفِ ناصیہ فرسائی ہو

 

اِک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو

وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو

 

آج جو عیب کسی پر نہیں کھلنے دیتے

کب وہ چاہیں گے مری حشر میں رُسوائی ہو

 



Total Pages: 158

Go To