Book Name:Zoq-e-Naat

وہ ان کے دَر کے فقیروں سے کیوں نہیں کہتے

جو ِشکوۂ ستمِ روزگار کرتے ہیں

 

تمہارے ہجر کے صدموں کی تاب کس کو ہے

یہ چوبِ خشک کو بھی بے قرار کرتے ہیں

 

کسی بلا سے انہیں پہنچے کس طرح آسیب

جو تیرے نام سے اپنا حصار کرتے ہیں

 

یہ نرم دِل ہیں وہ پیارے کہ سختیوں پر بھی

عدو کے حق میں دُعا بار بار کرتے ہیں

 

کشودِ عقدۂ مشکل کی کیوں میں فکر کروں

یہ کام تو مِرے طیبہ کے خار کرتے ہیں

 

زمین کوئے نبی کے جو لیتے ہیں بوسے

فرشتگانِ فلک ان کو پیار کرتے ہیں

 

تمہارے دَر پہ گدا بھی ہیں ہاتھ پھیلائے

تمہیں سے عرضِ دعا شہریار کرتے ہیں

 

کسے ہے دِیدِ جمالِ خدا پسند کی تاب

وہ پورے جلوے کہاں آشکار کرتے ہیں

 

ہمارے نخلِ تمنا کو بھی وہ پھل دیں گے

درخت خشک کو جو باردَار کرتے ہیں

 

پڑے ہیں خوابِ تغافل میں ہم مگر مولیٰ

طرح طرح سے ہمیں ہوشیار کرتے ہیں

 

سنا نہ مرتے ہوئے آج تک کسی نے انہیں

جو اپنے جان و دل ان پر نثار کرتے ہیں

 

انہیں کا جلوہ سرِ بزم دیکھتے ہیں پتنگ

انہیں کی یاد چمن میں ہزار کرتے ہیں

 

مِرے کریم نہ آہو کو قید دیکھ سکے

عبث اَسیر اَلم اِنتشار کرتے ہیں

 

جو ذَرّے آتے ہیں پائے حضور کے نیچے

 



Total Pages: 158

Go To