Book Name:Zoq-e-Naat

جلوسِ مسندِ شاہی سے عار کرتے ہیں

 

ہمارے دل کی لگی بھی وہی بجھا دیں گے

جو دَم میں آگ کو باغ و بہار کرتے ہیں

 

اشارہ کر دو تو بادِ خلاف کے جھونکے

ابھی ہمارے سفینے کو پار کرتے ہیں

 

تمہارے در کے گداؤں کی شان عالی ہے

وہ جس کو چاہتے ہیں تاجدار کرتے ہیں

 

گدا گدا ہے گدا تو کیا ہی چاہے اَدَب

بڑے بڑے تیرے دَر کا وقار کرتے ہیں

 

تمام خلق کو منظور ہے رضا جن کی

رضا حضور کی وہ اِختیار کرتے ہیں

 

سُنا کے وصفِ رُخِ پاک عندلیب کو ہم

رہینِ آمدِ فصلِ بہار کرتے ہیں

 

ہوا خلاف ہو چکرائے ناؤ کیا غم ہے

وہ ایک آن میں بیڑے کو پار کرتے ہیں

 

اَنَا   لَھَا  سے   وہ    بازارِ  کسمپرساں   میں

تسلیٔ دلِ بے اختیار کرتے ہیں

 

بنائی پشت نہ کعبہ کی ان کے گھر کی طرف

جنہیں خبر ہے وہ ایسا وقار کرتے ہیں

 

کبھی وہ تاجورانِ زمانہ کر نہ سکیں

جو کام آپ کے خدمت گزار کرتے ہیں

 

ہوائے دامن جاناں کے جانفزا جھونکے

خزاں رَسیدوں کو باغ و بہار کرتے ہیں

 

سگانِ ُکوئے نبی کے نصیب پر قرباں

پڑے ہوئے سرِ رہ اِفتخار کرتے ہیں

 

کوئی یہ پوچھے مِرے دل سے میری حسرت سے

کہ ٹوٹے حال میں کیا غمگسار کرتے ہیں

 



Total Pages: 158

Go To