Book Name:Rafiq-e-Safar Kesa Ho?

پہلے اِسے پڑھ لیجیے !

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دعوتِ اسلامی کے بانی ، شیخِ طریقت ، اَمیرِاہلسنَّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال  محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے مخصوص اَنداز میں سُنَّتوں بھرے  بیانات ، عِلم و حِکمت سے معمور مَدَ نی مذاکرات اور اپنے تربیت یافتہ مبلغین کے ذَریعے تھوڑے ہی عرصے میں لاکھوں مسلمانوں کے دِلوں میں مَدَنی اِنقلاب بَرپا کر دیا ہے ، آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی صحبت سے فائدہ اُٹھاتے  ہوئے کثیر اسلامی بھائی وقتاً فوقتاً مختلف مقامات پر ہونے والے مَدَنی مذاکرات میں مختلف قسم کے موضوعات  مثلاً عقائد و اَعمال ، فَضائل و مَناقِب ، شَریعت و طریقت ، تاریخ و سیرت ، سائنس و طِبّ ، اَخلاقیات و اِسلامی معلومات ، روزمرہ مُعاملات اور دِیگر بہت سے موضوعات سے متعلق سُوالات کرتے ہیں اور شیخِ طریقت ، اَمیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ انہیں حِکمت آموز  اور  عشقِ رسول میں ڈوبے ہوئے جوابات سے نوازتے ہیں ۔         

اَمیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ان عطا کردہ دِلچسپ اور عِلم و حِکمت سے لبریز  مَدَنی پھولوں کی خوشبوؤں سے دُنیا بھرکے مسلمانوں کو مہکانے کے مُقَدَّس جذبے کے تحت  المدینۃ العلمیۃ کا شعبہ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘ ان مَدَنی مذاکرات کو کافی  ترامیم و اِضافوں  کے ساتھ ’’فیضانِ مَدَنی مذاکرہ‘‘کے نام سے پیش کرنے کی سعادت حاصِل کر رہا ہے ۔   ان تحریری گلدستوں کا مُطالعہ کرنے سے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ عقائد و اَعمال اور ظاہِر و  باطن کی اِصلاح ، محبت ِالٰہی و عشقِ رسول  کی لازوال دولت کے ساتھ ساتھ مزید حُصُولِ عِلمِ دِین کا جَذبہ بھی بیدار ہو گا ۔     

اِس رسالے میں جو بھی خوبیاں ہیں یقیناً ربِّ رحیم عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے محبوبِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عطاؤں ، اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام کی عنایتوں اور اَمیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی شفقتوں اور پُرخُلوص دُعاؤں کا نتیجہ ہیں اور خامیاں ہوں تو  اس میں ہماری غیر اِرادی کوتاہی کا دَخل ہے ۔   

  مجلس المدینۃ العلمیۃ

 )شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ(

۱۶ ذیقعدۃُ الحرام ۱۴۳۹؁ ھ / 30جولائی 2018ء

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

رَفیقِ سفر کیسا ہو؟

 (مَع دِیگر دِلچسپ سُوال جواب )  

شیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ (۲۹صفحات) مکمل پڑھ لیجیے  اِنْ  شَآءَ اللّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ   معلومات  کا اَنمول خزانہ  ہاتھ آئے  گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِ سَیِّدُنا اَبُودَرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جُمعہ کے دِن مجھ پر بکثرت دُرُود شریف پڑھو کیونکہ جُمعہ کا دِن فَرِشتوں کی حاضِری کا دِن ہے اس دِن فَرِشتے حاضِر ہوتے ہیں اور  جو کوئی بھی مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا ہے اس کا دُرُود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ دُرُود پڑھنے سے فارِغ ہو جائے ۔  حضرتِ سَیِّدُنا اَبُودَرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کہتے ہیں میں نے عرض کی : کیا آپ کی(ظاہری)وفات کے بعد بھی؟اِرشاد فرمایا : وَبَعْدَ الْمَوْتِ اِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ  عَلَى الْاَرْضِ اَنْ تَاْكُلَ اَجْسَادَ الْاَنْبِيَاءِ فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ  يُرْزَقُ ىعنى وفات کے بعد بھی ، بے شک اللہپاک نے زمین پر حرام فرما دیا ہے کہ وہ اَنبیائے  کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام) کے جسموں کو کھائے ، اللہپاک کے نبی زندہ ہیں ، روزی دیئے جاتے ہیں ۔ ([1])  

اَنبیا کو بھی اَجَل آنی ہے                                مگر ایسی کہ فقط آنی ہے

پھر اُسی آن کے بعد ان کی حیات                    مِثلِ سابِق وہی جسمانی ہے

رُوح تو سب کی ہے زندہ ان کا                جسم پُرنور بھی رُوحانی ہے

اوروں کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف                     ان کے اَجسام کی کب ثانی ہے

یہ ہیں حَیِّ اَبدی ان کو رضاؔ                            صِدقِ وعدہ کی قضا مانی ہے

(حدائقِ بخشش)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]    ابن ماجه ، کتاب الجنائز ، باب  ذکر  وفاته ...الخ ، ۲ / ۲۹۱ ، حدیث : ۱۶۳۷ دار المعرفة بیروت



Total Pages: 11

Go To