Book Name:Yume Tatil Atikaf

(1)  نفل اعتکاف کی سعادت پانے کا ذریعہ

 اس مدنی کام میں چونکہ عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے کی نِیَّت سے مَسْجِد میں ٹھہرنا ہوتا ہے ، لِہٰذا شرکا اِسْلَامی بھائی یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِکَاف کی بَرَکَت سے نَفْل اِعْتِکَاف کا ثواب پانے کی سَعَادَت حاصِل کرسکتے ہیں کہ جس کے مُتَعَلِّق اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں:  مَذْھَبِ مُفتٰی بِہٖ پر (نَفْل) اِعْتِکَاف کیلئے روزہ شَرْط نہیں اور ایک سَاعَت کا بھی ہو سکتا ہے جب سے (مَسْجِد میں ) داخِل ہو باہَر آنے تک (کے لئے ) اِعْتِکَاف کی نِیّت کرلے ، اِنتِظارِ نَماز و اَدائے نَماز کے ساتھ اِعْتِکَاف کا بھی ثواب پائے گا۔ [1]

 (2)  نیکی کی دعوت کی فضیلت پانے کا ذَرِیْعَہ

یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِکَاف کے ذَرِیعے شہر کے کمزور علاقوں اور اَطراف گاؤں وغیرہ میں جا کر نیکی کی دَعْوت پیش کی جاتی اور عِلْمِ دین سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے ، جس کا فائدہ  نہ صِرف اپنی ذات بلکہ دوسروں کو بھی ہوتا ہے ، جس کے مُتَعَلِّق مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: تمام عبادتوں کا فائدہ خود اپنے کو (یعنی اپنی ذات کو) ہوتا ہے مگر تبلیغ کا فائدہ دوسروں کو بھی۔ لازِم (یعنی صِرف اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے والے عَمَل) سے مُتَعَدِّی (ایسا عَمَل جو دوسروں کو بھی فائدہ دے وہ) اَفْضَل ہے ۔ [2]

ایک رِوایَت میں ہے  کہ جس نے کسی  کو بھلائی کی دَعْوَت دی تو اسے اِس بھلائی کی پَیْرَوِی کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی واقِع نہ ہوگی اور جس نے کسی کو گمراہی کی دَعْوَت دی اسے اس گمراہی کی پَیْرَوِی کر نے والوں کے برابر گناہ ہوگا اور ان کے گناہوں میں کمی نہ ہوگی۔ [3]

عطا کردو مجھے اِسْلام کی تبلیغ کا جذبہ          میں بس دیتا پھروں نیکی کی دَعْوت یَارَسُولَ اللہ[4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (3)  فروغِ علم دِین کا بہترین ذریعہ

یوم تعطیل اعتکاف فروغِ علم دِین کا بھی ایک بَہُت بڑا ذَرِیْعَہ ہے ، وہ یو ں کہ مَسْجِد میں جاری مَدَنی حلقے میں شرکا اسلامی بھائیوں کو وُضُو، غسل، نَماز کے فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ ڈھیروں سنّتیں اورآداب سیکھے سکھائے جاتے ہیں۔ بِلاشبہ علم دِین سیکھنے سکھانے کی بھی خوب برکتیں ہیں، حضرت سَیِّدُنا عیسٰی رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مَنْقُول ہے کہ جس نے عِلْم حاصِل کیا، اس پر عَمَل کیا اور دوسروں کو سکھایا تو آسمانوں کی سَلْطَنَت میں اسے عظیم کہا جاتا ہے ۔ [5]

 (4) مساجد کی آبادکاری کا ذریعہ

فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : جب کسی شخص کو مَسْجِد کی خبرگیری کرتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دینا۔ [6] مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مَسْجِد کی خبرگیری کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ( یعنی)  ہر نَماز  کیلئے وہاں حاضِر ہو، وہاں کی صفائی کرے ، مُرمَّت کا خیال رکھے ، جائز زِیْنَت میں مَشْغُول ہو، وہاں بیٹھ کر دِینی مسائل بیان کرے ، وہاں دَرْس دے ، یہ سب مَسْجِد  کی خَبَرگیری میں داخِل  ہیں۔ کیونکہ یہ   چیزیں اِیمان کی علامتیں ہیں۔ [7] مگر افسوس! غَفْلَت کے اس دور  میں جہاں شہروں  کی مَسَاجِد میں نمازیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے وہیں بعض گاؤں دیہات میں نَماز پڑھنے والا تو ایک طرف نَماز  پڑھانے والا ہی کوئی نہیں۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہ! عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی مَسْجِد بھرو اور مَسْجِد بناؤ تحریک ہے ، لِہٰذا یومِ تعطیل اِعْتِکَاف بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور یہ مَدَنی کام



[1]    فتاویٰ رضویہ،۵ / ۶۷۴

[2]    تفسیرِ نعیمی،پ۴، آل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۴ / ۸۰

[3]    مسلم،کتاب العلم،باب من سن حسنة ... .الخ،ص۱۴۳۸،حدیث:۲۶۷۴

[4]    وسائل بخشش (مرمّم)،ص۳۳۳

[5]    الزھد للامام احمد بن حنبل، من مواعظ عیسی علیه السلام، ص۵۲،حدیث:۳۳۰

[6]    ترمذی،کتاب الایمان،باب ماجاء فی حرمة الصلاة،ص۶۱۷،حدیث:۲۶۱۶

[7]     مراۃ المناجیح، باب مسجدوں اور نماز کے مقامات کا بیان، دوسری فصل،۱ / ۴۴۴



Total Pages: 16

Go To