Book Name:Yume Tatil Atikaf

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 بزرگانِ دین اور اِشَاعت عِلْمِ دین

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد ہمارے دیگر بُزُرْگانِ دِیْن رَحِمَہُمُ اللّٰہُالْمُبِین نے بھی اس سلسلے کو یونہی جاری رکھا جیسا کہ اِبْتِدَا میں حضرت سَیِّدُنا احمد زینی دَحْلان مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْقَوِی کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بھی بعینہٖ وہی کام کئے جو اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوق اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عہدِ خِلَافَت میں سر اَنْجَام دئیے تھے ، آپ  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی طرح اور بھی بَہُت سے بُزُرْگانِ دِیْن ایسے ہیں، جنہوں نے گاؤں دیہات میں جا کر عِلْمِ دین کی شَمْع  کو  خوب روشن فرمایا اور بعض بُزُرْگانِ دِیْن تو اسی غَرَضْ  سے گھر بار چھوڑ کر اطراف گاؤں میں جا کر قیام بھی فرمایا کرتے تھے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنااِبْنِ شِہاب زُہری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  دیہاتیوں کوزیورِ عِلْم سے آراستہ کرنے کی غَرَضْ سے ان کے ہاں قِیام کیا کرتے تھے ۔ [1]

اِشَاعَتِ عِلْم کیلئے گاؤں دیہات میں جانا کیسا؟

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یقیناً کسی کے ذِہْن میں یہ وسوسہ آ سکتا ہے کہ کیا اِشَاعَتِ عِلْمِ دِین کے لئے کسی گاؤں دیہات میں جانا ضَروری ہے ؟ تو آئیے اس کا جواب حُجَّةُ الْاِسلام حضرت سَیِّدُنا امام محمد بن محمد غزالی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی مَشْہُور کتاب اِحْیاءُ العُلوم سے جانتے ہیں، چُنَانْچِہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب شہروں کا یہ حال ہے کہ اس میں رہنے  والے اَکْثَر لوگ نَماز کی شرائط سے غافِل ہیں تو گاؤں دیہات میں رہنے والوں کا حال کیا ہوگا؟ بَہَرحَال شہری ہوں یا دیہاتی لوگ سب اس صُورَتِ حال کا شِکار ہیں۔ لِہٰذا جہاں شہر کی ہر مَسْجِد اور محلّہ میں ایک ایسے فقیہ (یعنی مُعَلِّم) کا ہونا ضَروری ہے جو لوگوں کو دِین سکھائے ، وہیں ہر گاؤں میں بھی ایک فقیہ کا ہونا ضَروری ہے ، البتہ! ہر وہ فقیہ جو فَرْضِ عین کی ادائیگی کے بعد فَرْضِ کفایہ کے لئے فارِغ ہو اس پر واجِب ہے کہ وہ اپنے شہر کے قُرب و جَوَار میں بسنے والوں کے پاس جائے اور انہیں دِین اور شَریعَت کے فرائض سکھائے ۔ اگر کوئی ایک فقیہ یہ کام بجا لائے گا تو باقی تمام لوگوں سے فَرْض ساقِط ہو جائے گا، ورنہ اس کا وبال سب لوگوں پر ہو گا، عالِم پر اس وجہ سے ہو گا کہ اس نے باہَر جا کر اَحْکامِ شَریعَت سکھانے میں کوتاہی کی اور جاہل پر اس وجہ سے کہ اس نے سیکھنے میں کوتاہی کی۔ [2]

اطراف گاؤں اور دعوتِ اسلامی

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! عاشِقانِ رسول کی مَدَنی تحریک دَعْوَتِ اِسْلَامی بھی اپنے اَسلاف کے نقشِ قَدَم پر چلتے ہوئے گاؤں دیہات میں عِلْم کی شَمْع کو روشن کرنے کا عَزْم کئے ہوئے ہے ، چونکہ اس کا مَدَنی مَقْصَد  ہی یہ ہے کہ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصْلَاح کی کوشش کرنی ہے ۔ “اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ۔ لِہٰذا اس مَدَنی مَقْصَد کی تکمیل اَطراف اور گاؤں دیہات کے لوگوں کے بغیر مُمکِن نہیں، یہی وجہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّت اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور سَلَف صَالِـحِین (بزرگانِ دِین) رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِم کے طریقے پر عَمَل کرتے ہوئے پندرھویں (15ویں) صَدی کی عظیم عِلْمی و رُوحانی شَخْصِیَّت، شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت، بانِیِ دَعْوَتِ اِسْلَامی حضرت علّامہ مولانا ابو بِلال محمد اِلْیَاس عطّار قادِری رَضَوِی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے شہروں میں نیکی کی دَعْوَت کو ہی عام نہیں کیا بلکہ اَطراف اور گاؤں دیہات میں بسنے والوں پر بھی خصوصی تَوَجُّہ دی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اطراف گاؤں میں قرآنِ کریم پڑھنے پڑھانے کے لئے دَعْوَتِ اِسْلَامی کے تحت کثیر تعداد میں مدارس المدینہ قائم ہیں، جن میں مدنی منے اور مدنی منیاں ہی قرآنِ کریم کی تعلیم سے آراستہ نہیں ہو رہیں بلکہ بڑی عمر کے اسلامی بھائی اور اِسْلَامی بہنیں بھی مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَهبالغان و بالغات  میں شِرْکَت کی بَرَکَت سے دُرُسْت تَلَـفُّظ کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھنا سیکھ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ عاشقانِ رسول دَعْوَتِ اِسْلَامی کے 12 مَدَنی کاموں کی بھی خوب دھوم مچانے میں مصروف ہیں، انہی 12مدنی کاموں میں سے یَوْمِ تَعْطِیْل اِعْتِکَاف بہت ہی اہمیت کا حامل مدنی کام ہے ، جس کا مَقْصُود شہر اور گاؤں دیہاتوں / گوٹھوں  میں رہنے والوں تک چھٹی کے دن نیکی کی دَعْوَت پہنچانا اور انہیں عِلْمِ دِین کی دولت سے مالا مال کرنا ہے ۔

 



[1]     حلية الاوليا،ذكر طبقة من تابعی المدينة ... .الخ،الزهری،۳ / ۴۱۶،الرقم:۴۴۷۶

[2]    احياء علوم الدين،کتاب الامر با لمعروف الخ،الباب الثالث فی المنکراتالخ،۲ / ۴۱۹ ملتقطًا



Total Pages: 16

Go To