Book Name:Yume Tatil Atikaf

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُکْم پر بعض  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے گاؤں گاؤں بستی بستی جا کر دَعْوَتِ اسلام کو عام کیا۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُ نا مُصْعَب بِنْ عُمَیْررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ مُنَوَّرہ بھیجا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک ہی جگہ تشریف فرما نہ ہوئے بلکہ مدینہ شریف کے اطراف گاؤں میں بسنے والے مُـخْتَلِف قبائل میں بھی جا کر خوب نیکی کی دَعْوَت عام فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ جب آپ تقریباً 12 ماہ کے بعد سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضِر ہوئے تو اس وَقْت تقریباً 500 اور ایک رِوایَت کے مُطابِق 300 لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے  ساتھ تھے ۔ [1]

اسی طرح کے مزید واقعات دَعْوَتِ اِسْلَامی کے اِشَاعتی اِدارے مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کی مَطْبُوعَہ 875 صَفحات پر مُشْتَمِل کِتاب سیرتِ مصطفے ٰصَفْحَہ 506پر کچھ یوں تحریر ہیں:  حضورِاقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تَبْلِیغِ اِسْلَام  کے لئے تمام اَطراف و اکناف میں مُبَلِّغینِ  اِسْلَام اور عامِلین و مجاہدین کو بھیجا کرتے تھے ۔ ان میں سے بعض قبائل تو مُبَلِّغین کے سامنے  ہی دَعْوَتِ اِسْلَام قبول کر کے مسلمان ہو جاتے تھے مگر بعض قبائل اس بات کے خواہش مند ہوتے تھے کہ براہِ راست خود بارگاہِ نبوّت میں حاضِر ہو کر اپنے اِسْلَام کا اِعْلَان کریں۔ چُنَانْچِہ کچھ لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے نمائندہ بن کر مدینہ مُنَوَّرہ آتے تھے اور خود بانیِ اِسْلَام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی زبانِ فیض ترجمان سے دَعْوَتِ اِسْلَام کا پیغام سن کر اپنے اِسْلَام کا اِعْلَان کرتے تھے اور پھر اپنے اپنے قبیلوں میں واپَس جا کر پورے قبیلہ والوں کو مُشَرَّف بہ اِسْلَام کرتے تھے ۔ اِنہی قبائل کے نمائندوں کو ہم وُفُودُ الْعَرَب کے عُنْوان سے بیان کرتے ہیں۔

اس قسم کے وُفُود اور نمائندگانِ قبائل مُـخْتَلِف زمانوں میں مدینہ مُنَوَّرہ آتے رہے مگر فتحِ  مکہ کے بعد ناگہاں سارے عَرَب کے خیالات میں ایک عظیم تغیُّر واقِع ہو گیا اور سب لوگ اِسْلَام کی طرف مائل ہونے لگے کیونکہ اِسْلَام کی حَقَّانِیَّت واضِح اور ظاہِر ہو جانے کے باوُجُود بَہُت سے قبائل مَحْض قریش کے دباؤ اور اَہْلِ مکّہ کے ڈر سے اِسْلَام قبول نہیں کر سکتے تھے ۔ فتح مکّہ نے اس رُکاوَٹ کو بھی دُور کر دیا اور اب دَعْوَتِ اِسْلَام اور قرآن کے مُقَدَّس پیغام نے گھر گھر پَہُنْچ کر اپنی حَقَّانِیَّت اور اِعجازی تَصَرُّفات سے سب کے قُلُوب پر سِکَّہ بٹھا دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وُہی لوگ جو ایک لمحہ کے لئے اِسْلَام کا نام سننا اور مسلمانوں کی صُورَت دیکھنا گوارا نہیں کر سکتے تھے آج پروانوں کی طرح شَمْعِ نبوّت پر نثار ہونے لگے اور جُوق در جُوق بلکہ فوج در فوج حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں دُور و دراز کے سَفَر طے کرتے ہوئے وُفُود کی شَکْل میں آنے لگے اور برضا و رَغْبَت اِسْلَام کے حلقہ بگوش بننے لگے چونکہ اس قسم کے وُفُود اَکْثَر و بیشتر فتحِ مکّہ کے بعد   ۹ھ میں مدینہ مُنَوَّرہ آئے ، اس لئے   ۹ ھ کو لوگ سَنَةُ الْوُفُود (یعنی نمائندوں کا سال)  کہنے لگے ۔ [2]

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یہ سلسلہ یہیں تک مَحْدُود نہ رہا بلکہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد بھی جاری رہا اور بِالْخُصُوص اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فَارُوقِ اَعْظَم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے دورِ خِلَافَت  میں مُـخْتَلِف مُمَالک کے شہروں اور بستیوں میں رہنے والوں تک علم دین کو عام کرنے میں اِنْقِلابی اقدامات کئے ، مَثَلًا

٭ شہر بَہ شہر قَرْیَہ بَہ قَرْیَہ مُـخْتَلِف مُعَلِّمِین کو نہ صِرف بھیجا، بلکہ ان کی تنخواہیں بھی مُقَرَّر کیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ حُکْم بھی جاری کیا کہ ہر شخص کو قرآنِ پاک سیکھنے میں اس کی کوشش کے اِعْتِبَار سے عطیات دیئے جائیں۔ [3]

٭ اِس سلسلے میں فَقَط وہاں کے گورنروں یا قاضیوں پر اِکْتِفَا نہ کیا بلکہ مدینہ مُنَوَّرہ میں مقیم مُـخْتَلِف عُلَما و مفتیانِ کرام کو اس کام کی تکمیل کے لئے بھیجا۔ [4]

٭ فتح ہونے والے ہر علاقے میں جامِع مَسَاجِد کا خصوصی اِہتِمام فرمایا۔ ٭ جو مالِ غنیمت تقسیم کے بعد بچ جاتا اسے قرآنِ کریم کی تعلیم حاصِل کرنے والوں پر خَرْچ کرنے کا حُکْم دیا۔ [5]

 



[1]    مدارج النبوت،قسم دوم،باب چہارم،قضیه هجرت و مبادی آں،۲ / ۵۳ ملتقطًا

[2]    سیرت مصطفیٰ، ص ۵۰۶

[3]    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۰

[4]    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۳

[5]    فیضان فاروق اعظم،۲ / ۵۱۴



Total Pages: 16

Go To