Book Name:Yume Tatil Atikaf

فرمایا۔ [1]بسا اَوقات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ دیگر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی ہوتے جیسا کہ قبیلہ بَنُو ذُہْل بِن شَیْبان کے ہاں جا کر جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسکے سردار مَفْرُوق کو نیکی کی دَعْوت پیش کی تو حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھے ۔ [2]  اسی طرح سَفَرِ طائف میں حضرت سَیِّدُنا زید بن ثابِت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ تھے ۔ [3]

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! مذکورہ تمام مثالیں اگرچہ ہجرت سے پہلے کی ہیں مگر ایسا بھی نہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَطراف گاؤں میں جاکر نیکی کی دَعْوَت پیش کرنے کا سلسلہ ہجرت کے بعد تَرْک فرما دیا ہو، البتہ! یہ ضَرور ہوا کہ اس میں کچھ کمی آ گئی مگر یہ سلسلہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مَوْقُوف نہ فرمایا، مَثَلًا حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی  ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر ہفتے  مَسْجِدِ قُبا میں (کبھی) پیدل اور (کبھی)  سوار ہو کر  تشریف لے جاتے [4] اور ایسا کیسے مُمکِن ہے کہ مُعَلِّمِ کائنات، فَخْرِمَوجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے عُشَّاق کے ہاں تشریف لے جائیں مگر انہیں وَعْظ و نصیحت کے مَدَنی پھول اِرشَاد نہ فرمائیں۔

جنّوں کے قبائل میں تبلیغ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! اللہ پاک کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چونکہ رہتی دنیا تک کے لئے تمام مخلوقات کے پیغمبر ہیں، لِہٰذا یہ کیسے مُمکِن تھا کہ انسان تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کَرَم سے فیض یاب ہوتے مگر جِنّات جوانسانوں سے بھی تعداد میں زیادہ ہیں وہ آپ کی رَحْمَت سے اپنا حِصّہ پانے سے مَحْرُوم رہ جاتے ۔ چُنَانْچِہ مُـخْتَلِف روایات سے یہ ثابِت ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جِنّات کے ہاں جا کر انہیں اِسْلَامی تعلیمات سے مُنَوَّر فرمایا۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا زُبَیر بِن عَوَّام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  کہ ایک مرتبہ رَحْمَتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں  مَسْجِدِ نبوی شریف میں  نَماز پڑھائی، پھر ہماری جانِب مُتَوجّہ ہو کر اِسْتِفْسَار فرمایا: تم میں سے کون آج رات جنّات سے مُلَاقَات کے لئے میرے ساتھ چلے گا؟  سب ہی خاموش رہے کسی نے کوئی جواب نہ دیا، یہاں  تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہی سوال تین۳ بار دُہرایا مگر کوئی جواب نہ ملا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے پاس سے گزرتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے دامَنِ  رَحْمَت میں  لے کر چلنے لگے ، طویل سَفَر طے کرنے کے باوُجُود سرِ راہ کچھ مَحْسُوس نہ ہوا، ہم اس قَدْر دُور پہنچ گئے کہ مدینے کے باغات پیچھے رہ گئے اور مَقامِ بَوَار آگیا۔ اچانک وہاں  کچھ لوگ نَظَر آئے جو نیزے کی مَانِنْد دراز قد اور پاؤں  تک لمبے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، انہیں  دیکھتے ہی مجھ پر ھَیْبَت طاری ہو گئی یہاں  تک کہ میرے قَدَم خوف سے لرزنے لگے ۔ پھر جب ہم اِن کے مزید قریب پہنچے تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے مبارک پاؤں  سے زمین پر ایک گول دائرہ کھینچ کر مجھ سے اِرشَاد فرمایا: اس کے درمیان بیٹھ جاؤ۔ جیسے ہی میں  درمیان میں  بیٹھا سارا خوف جاتا رہا، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مزید آگے تشریف لے گئے اور جِنَّات پر قرآنِ کریم کی تِلاوَت پیش کی اور صُبْح نمودار ہونے کے وَقْت واپَس میرے پاس تشریف لائے اور مجھے ساتھ چلنے کو فرمایا، میں  ساتھ ساتھ چلنے لگا، اسی دوران ہم بِالْکُل اجنبی جگہ پہنچ گئے تو وہاں  سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا: غور کرو اور دیکھو تمہیں  پہلے نَظَر آنے والی چیزوں میں  سے کیا نَظَر آرہاہے ؟  میں  نے عَرْض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں  بَہُت بڑی ایک جَمَاعَت دیکھ رہا ہوں۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دَسْتِ اَقْدَس سے زمین کو نَرْم فرما کر کچھ لے کر ان کی طرف پھینکا اور پھر اِرشَاد فرمایا: یہ قومِ جِنَّات کا ایک وفد تھا جو راہِ راست پر آگیا ہے ۔ [5]ایسا ہی ایک واقعہ مسلم شریف میں حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی مَرْوِی ہے کہ وہ لَیْلَةُ الْـجِنّ میں سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے ۔ [6]

اطراف گاؤں میں اِشَاعَتِ علم دِین اور صحابہ کرام

 



[1]       شرح الزرقانی علی المواھب، ذکر عرض المصطفی نفسه علی ... الخ،۲ / ۷۳

[2]      سیرتِ مصطفیٰ، ص۱۴۸ بتصرف

[3]    شرح الزرقانی علی المواھب،خروجه الی الطائف،۲ / ۷۳ ملتقطًا

[4]    بخاری،کتاب فضل الصلاة فی مسجد مکة والمدینة، باب من اتی مسجد قباء کلّ سبت، ص ۳۴۲،