Book Name:Yume Tatil Atikaf

اپنے علاقے میں بھرپور اِسْتِقْبَال کرتے بلکہ آپ انہیں جو کہتے وہ اسے تَوَجُّہ سے سنتے اور جو حُکْم دیتے وہ اس پر عَمَل بھی کرتے ۔

٭ آپ اَطراف و مضافات میں جب سَفَر فرماتے تو وہاں کے مال داروں پر بھی خُصوصی تَوَجُّہ دیتے اور انہیں تحائف وغیرہ سے بھی نوازتے اور ایسا آپ کوئی دُنْیَاوِی غَرَضْ  پورا کرنے کے لئے نہ کرتے بلکہ اس لئے کرتے تا کہ وہ لوگ بھی آپ کے مَقْصَد کو پورا کرنے یعنی فروغِ عِلْمِ دین کے سلسلے میں آپ کی مَدَد کریں۔

٭ اگر کوئی آپ کی خِدْمَت میں مالِ کثیر پیش کرتا تو آپ اسے قبول فرما کر وہ مال انہیں ہی عَطا فرما دیتے اور ساتھ یہ حُکْم اِرشَاد فرماتے کہ وہ وہاں مَسْجِد تعمیر کریں اور اس کام میں خود بھی ان کی مالی مَدَد فرماتے ۔

٭ جب مَسْجِد کی تعمیر  مُکَمَّل ہو جاتی  تو وہاں کسی مفتی (فقیہ ) کا تَقَرُّر فرما دیتے تا کہ اس کے ذَرِیعے لوگوں میں عِلْمِ دین کو عام کیا جائے ۔ یوں تقریباً 60 مقامات پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف سے ایک فقیہ مُقَرَّر تھے جو وہاں لوگوں کو نہ صرف باجَمَاعَت نَمازیں پڑھاتے بلکہ نَماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ کے مُتَعَلِّق ضروری دینی مَسَائِل بھی سکھایا کرتے ۔

٭ ان مفتیانِ کرام کے اَخراجات کی بھی آپ اپنی جیب سے ترکیب بنایا کرتے ، یہاں تک کہ اس کے لئے آپ کو ایک بَہُت بڑی رَقَم اُدھار بھی لینا پڑی، مگر آپ نے اِشَاعتِ عِلْمِ دِین سے منہ نہ موڑا اور بِالْآخِر حُکُومَتِ وَقْت نے آپ کی ان خدمات کو سراہتے ہوئے ان تمام مفتیانِ کرام کے ماہانہ مُشاہرے کی مُناسِب ترکیب کی ضَمَانَت لے لی۔

٭ اَطراف و مضافات میں آپ نے جو بیج بویا تھا اس کے ثمرات جَلْد ہی نمودار ہونے لگے ، چُنَانْچِہ چند ہی سالوں کے بعد جب ان بچوں کی تعداد شُمار کی گئی جنہوں نے حِفْظ قرآنِ کریم کی سَعَادَت پائی تھی تو یہ تعداد 800 کو پہنچ گئی اور غیر حُفّاظ کی تعداد تو بے شُمار تھی۔ [1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 

اَطراف گاؤں میں نیکی کی دعوت دینا کیسا؟

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی کثیر آبادی مُضافات و اَطراف میں رہتی ہے اور شہری لوگوں کو عِلْم حاصِل کرنے کے جو مواقع دستیاب ہیں وہ مُضافات اور اَطراف گاؤں میں بسنے والوں کو حاصِل نہیں۔ حالانکہ اِسْلَام نے عِلْمِ دین کا حُصُول ہر مسلمان مرد و عورت پر لازِم قرار دیا ہے ، خواہ وہ شہر میں رہتا ہو یا گاؤں دیہات میں، اس میں کوئی فَرْق بیان نہیں فرمایا۔ چُنَانْچِہ دیکھا آپ نے کہ حضرت سَیِّدُنا علّامہ احمد بن زَینی دَحْلان مکّی شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے صِرف شہر ہی میں نہیں، گاؤں دیہات میں بھی عِلْم کی شَمْع روشن فرمائی، بِلاشبہ یہ ایک عظیم کام ہے اور سیرتِ نبوی کا مُطَالَعَہ کرنے سے مَعْلُوم ہوتا  ہے کہ تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم  کو جب عَلَانِیَّہ تَبْلِیغ کرنے کا حُکْم ملا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جہاں مَکَّةُ المُکَرَّمَہ میں بسنے والوں کو اِسْلَام کی دَعْوَت دیتے وَہیں اَطراف کی بستیوں میں مُـخْتَلِف قبائِلِ عَرَب کے پاس جا کر بھی انہیں نیکی کی دَعْوَت پیش فرمایا کرتے ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسا اَوقات اکیلے اس کام کے لئے نِکَل پڑتے جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبیلہ کِنْدَہ میں اس مَقْصَد کے لئے تشریف لے گئے ، پھر وہاں سے قبیلہ کَلْب اور بَنُو حَنِیفہ کے لوگوں کو جا کر اِسْلَام کی دَعْوَت دی۔ [2]اسی طرح حج کے موسم میں جب دُور دراز سے عَرَب قبائِل مَکَّہ شریف میں جَمْع ہوتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے پاس جا کر انہیں اِسْلام کی دَعْوَت دیا کرتے ۔ [3] مَثَلًا ایک بار آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حج کے موسم میں قبیلہ بنو ثقیف کو دَعْوَتِ اِسْلَام  دی تو انہوں نے قبول کرنے سے اِنْـکَار کر دیا[4]  مگر جب قبیلہ اَوْس و خَزْرَج کو دَعْوَتِ اِسْلَام دی تو انہوں نے لَـبَّیْك کہتے ہوئے نہ صِرف اِسْلَام قبول کیا بلکہ آپ کی نُصْرَت و تائید کا وعدہ بھی



[1]    نفحة الرحمن فی مناقب مفتی مکة احمد زینی دحلان،ص۳۸تا۴۲ ملخصًا

[2]       سیرتابن ھشام،عرض رسول الله نفسه علی القبائل،۲ / ۵۴

[3]      شرح الزرقانی علی المواھب، ذکر عرض المصطفی نفسه علی ... الخ،۲ / ۷۳ ملتقطًا ومفھومًا

[4]      خصائص کبریٰ،باب ما وقع فی عرضه نفسه علی القبائل من الآیات،ا / ۳۰۰



Total Pages: 16

Go To