Book Name:Yume Tatil Atikaf

ریڈیو بھی خرید لیا۔ پھر 1996ء میں میری قِسْمَت  کا ستارہ یوں چمکا کہ ایک مرتبہ جُمُعَہ  کے مبارک دن سفید لباس میں مَلْبُوس  سر پر سبز عِمَامَہ شریف کا تاج سجائے ہوئے چند اِسْلَامی بھائی یومِ تعطیل اِعْتِکَاف کیلئے ہمارے گاؤں میں تشریف لائے ، ان میں سے ایک اِسْلَامی بھائی نے مجھے بھی مَحبَّت بھرے انداز سے مَسْجِد میں آ کر اِعْتِکَاف میں شامِل ہونے کی دَعْوَت دی، لِہٰذا میں بھی اپنے چند دوستوں سمیت ان کے ساتھ شامِل ہو گیا اور خوب دِلی راحَت نصیب ہوئی، واپس جاتے ہوئے ایک اسلامی بھائی نے ہفتہ  وار اجتماع کی دَعْوَت  دی  تو ہم نے  عَرْض کی: اگر یاد رہا  تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ضَرور شِرْکَت کریں گے ۔ جمعرات کو جب میں نَمازِ مَغْرِب پڑھنے مَسْجِد  گیا  تو قریبی دکاندار نے  بتایا کہ کوئی عمامے والے اِسْلَامی بھائی آپ کو ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں شِرْکَت کی یاد دِہانی کروانے آئے تھے ، یہ سن کر میری  حیرت کی اِنْتِہا نہ رہی کہ یہ اسلامی  بھائی 2 کلو میڑ دُور سے پیدل سَفَر  کر  کے صِرف یاد دِہانی کیلئے آئے  تھے ! اور خوشی بھی بہت ہوئی کہ دَعْوَتِ اِسْلَامی والے کتنے اچھے لوگ ہیں کہ کسی دُنْیَاوِی مَقْصَد کیلئے  نہیں بلکہ  فَقَط اِجْتِمَاع کی دَعْوَت دینے آئے تھے ۔ جب ہم چار دوست ہفتہ وار اِجْتِمَاع میں شریک ہوئے تو  وہ اسلامی بھائی ایسے حُسْنِ اَخلاق سے پیش آئے کہ ہم تو بس دَعْوَتِ اِسْلَامی کے ہو کر رہ گئے ۔ میرا تو گویا اندازِ زِنْدَگی ہی بَدَل گیا، نمازوں کی پابندی نصیب ہوئی، گانوں کی جگہ نعت شریف نے لے لی، بُرے دوستوں کی جگہ مُبَلِّغینِ دَعْوَتِ اِسْلَامی کی صُحْبَت مُیَسَّر آئی۔ رَبِیْعُ الْاَوَّل شریف میں  شَیْخِ طَرِیْقَت، اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مَکْتُوب کی ترغیب سے 12 دن کے لئے چہرے پر داڑھی شریف سجانے  کی نِیَّت کی، پھر عیدِ میلاد کے بعد پورے ماہ کے لئے رکھنے کا ذِہْن بنا اور جب ماہِ میلاد  گزرا تو منڈوانے و کٹوانے سے شرم آئی اور ہمیشہ کے لئے رکھ لی۔ اس کے بعد 1996ء کے مَدِیْنَةُ الْاَوْلِیَا ملتان شریف میں بین الاقوامی اِجْتِمَاع میں حاضری کی سَعَادَت  ملی تو واپسی پر عمامہ شریف بھی سجا لیا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! دعوتِ اسلامی کے  پیارے  پیارے مَدَنی مَاحَول کی بَرَکَت  سے  نہ صِرف میری زِنْدَگی میں مَدَنی  انقلاب برپا ہوا بلکہ میرا سارا گھرانہ  ہی مَدَنی مَاحَول میں رنگ گیا، میں بہن بھائیوں میں اگرچہ سب سے چھوٹا تھا مگر اللہ پاک کے فَضْل اور مرشِد پاک کی نَظَرِ کرم سے  والِدہ صاحبہ  مرحومہ سمیت سارا خاندان عطّاری ہو گیا۔ میرے تین بھانجے مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه سے حِفْظِ قرآن کی سَعَادَت پا چکے ہیں اور ایک ابھی حِفْظ کر رہا ہے ، ان میں سے ایک مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه میں تدریس  کر رہا ہے جبکہ دوسرا دَرْسِ نظامی کرنے کے  بعد مَـجْلِس جَامِعَةُ الْـمَدِیْنَه میں رُکْنِ کابینہ کی حَیْثِـیَّت سے سنتوں کی خِدْمَت  میں مصروفِ عَمَل ہے ، جبکہ ایک دَرْسِ نظامی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میری دو۲ بھانجیاں بھی فارِغُ التحصیل ہونے کے بعد جَامِعَةُ الْـمَدِیْنَه للبنات میں  تدریس کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! میں خود بھی ڈویژن مُشَاوَرَت  کے نگران کی حَیْثِـیَّت سے مدنی  کاموں کی دُھومیں مچانے کی سَعَادَت پا رہا ہوں  اور اسے اپنے مرشد کی نَظَر کا فیضان جانتا ہوں کہ مجھے مدنی  کاموں کے بغیر کسی پل چین نہیں آتا، جس دن مدنی کام نہیں کر سکتا  اُدھورا پن اور محرومی سی مَحْسُوس ہوتی ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

یوم تعطیل اعتکاف سے متعلق چند سوال جواب

سوال 1 : یوم تعطیل اعتکاف  شہر اور اطراف میں کس مَـجْلِس کے سُپُرد ہے ؟  

جواب : یوم تعطیل اعتکاف شہرمیں مَـجْلِس مَدَنی قَافِلہ کے سُپُرد اور اطراف گاؤں میں فی الوقت اطراف کابینہ ذِمَّہ دار، اطراف ڈویژن ذِمَّہ دار، اطراف علاقائی ذِمَّہ دار کے سُپُرد ہے ۔

سوال 2 : مَسْجِد انتظامیہ کی طرف سے یوم تعطیل اعتکاف کی اجازت نہ ملنے کی صُورَت میں کیا ترکیب  کی جائے ؟

جواب : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! اکثر عاشقانِ رسول علمائے اہلسنت دَعْوَتِ اسلامی سے بہت پیار کرتے ، تائید کرتے اور تعاون کرتے ہیں، اگر کہیں کسی غلط فہمی کی بنا پر کوئی ایسی ترکیب ہو جائے تو مَسْجِد کے باہر یا قریب ہی کسی گھر یا مدرسے میں ترکیب بنائی جا سکتی ہے ، مگر یاد رکھئے کبھی بھی کسی بھی سُنّی عالِم کی شان میں کوئی گستاخی کرنی ہے نہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہے ، کیونکہ دعوتِ اسلامی محبتوں کو پھیلانے والی اور نفرتوں کو مٹانے والی  تحریک ہے ۔

سوال 3 : یوم تعطیل اعتکاف   والا مدنی کام  تنظیمی طور پر کس مَقْصَد کے تحت کیا جاتا ہے ؟

جواب : یوم تعطیل اعتکاف ہی نہیں بلکہ باقی تمام مدنی کاموں کا بنیادی مَقْصَد اس مَدَنی مَقْصَد کی تکمیل کا حُصُول ہے جو اَمِیْـرِ اَھْلِسُنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ہمیں عطا



Total Pages: 16

Go To