Book Name:Yume Tatil Atikaf

ہوں گے ۔ جَامِعَةُ الْـمَدِیْنَه کے داخلوں کیلئے عاشقانِ رسول کی ایک اچھی تعدادملے گی، ہفتہ وار اِجْتِمَاع  و مدنی مذاکرے میں شِرْکَت کے لئے گاؤں دیہات سے آنے والے لوگوں کی وجہ سے شرکائے اجتماع کی تعداد میں خوب اضافہ ہو گا۔ اعتکاف کے لئے کثیرعاشقانِ رسول ملیں گے ، اسی طرح نئے نئے اسلامی بھائیوں پر انفرادی کو شش کر کے ان کو مدنی قافلوں میں سفر کیلئے تیّار  کرنے کا مَوْقَع ملے گا وغیرہ وغیرہ۔

 (12)  دعوتِ اسلامی کی تشہیر کا ذریعہ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف دَعْوَتِ اِسْلَامی کی تشہیر کا بھی ایک ذریعہ ہے ، کیونکہ جب شہر کے کمزور علاقوں یا اطراف گاؤں میں جا کر ہفتہ وار یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف کی ترکیب بنائی جائے گی تو وہاں کے لوگوں کو دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول کے قریب ہونے کا موقع ملے گا اور ان کے لئے یہ مَدَنی مَاحَول اپنانا آسان ہو گا۔

 (13)  مدنی عطیات کے حصول کا ذریعہ

گاؤں دیہات کے لوگ چونکہ عام طور پر کھیتی باڑی کرتے ہیں اور مُـخْتَلِف فصلیں کاشت کرتے رہتے ہیں، مگر عِلْمِ دِین سے دُوری کے سَبَب عُشر کی ادائیگی کے مُتَعَلِّق کچھ زیادہ مَعْلُومَات نہیں ہوتیں۔ لِہٰذا یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف کی بَرَکَت سے ان لوگوں کو عُشْر کی اَدائیگی کا ذِہْن دے کر دَعْوَتِ اسلامی کے جامعاتُ المدینہ و مدارسُ المدینہ ودعوتِ اسلامی کے جملہ مدنی کاموں کیلئے مُـخْتَلِف اَجناس حاصِل کی جا سکتی ہیں۔ جس کیلئے عُشر کی ادائیگی کے فضائل اور نہ دینے کی وعیدوں پر مُشْتَمِل دَرْس و بیان اور مَکْتَبَةُ الْـمَدِیْنَه کا مَطْبُوعَہ رِسَالَہ عُشْر کے احکام کو یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف کے دوران گاؤں دیہاتوں میں تقسیم کرنے کی ترکیب بنائی جا سکتی ہے ۔

 (14) محبتوں میں اِضافے کا ذریعہ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف شہری اور دیہی علاقے کے رہنے والوں کے درمیان محبتوں میں اِضافے کا بھی ایک بَہُت بڑا ذریعہ ہے کہ شہر کی مَصْرُوف زِنْدَگی میں رہنے والوں کو ایک دِن اطراف گاؤں کے عاشقانِ رسول کے ساتھ رہنے کااور دیہات کے رہنے والے عاشقانِ رسول کو اپنے شہری اسلامی بھائیوں سے کچھ سیکھنے کا بھرپور مَوْقَع ملے گا۔ بِلا شبہ یہ ایک ایسا دِینی ومذہبی رشتہ ہے جس کی فضیلت کے مُتَعَلِّق حضرتِ سَیِّدُنا ابو مالک اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی  ہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد  فرمایا:  بے شک اللہ کریم کے ایسے بندے بھی ہيں جن کا شُمار اَنۢبِیَا عَلَیْہِمُ السَّلَام  میں ہوتا ہے نہ شُہَدا میں، بلکہ اَنۢبِیَائے کرام و شہدائے عِظام خود بروزِ قِیامَت ان کے مَقام و مرتبہ اور اللہ کریم سے ان کے قُرب پر رَشْک کریں گے ۔ ایک دیہاتی شخص نے عَرْض  کی: یَارَسُول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ کون لوگ ہوں گے ؟ اِرشَاد فرمایا: یہ مُـخْتَلِف علاقوں کے لوگ ہوں گے اور ایک روایت[1] میں ہے کہ وہ مُـخْتَلِف قبائل سے تَعَلّق رکھتے ہوں گے ،  ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہ ہو گا مگر وہ ایک دوسرے سے صِرف رِضائے الٰہی کی خاطِر مَحبَّت کرتے اور تَعَلّق  رکھتے ہوں گے ۔ بروزِ قِیامَت اللہ کریم ان کیلئے اپنے (عَرْش  کے )  سامنے نور کے مِنْبَر رکھنے کا حکم فرمائے گااوران کا حساب بھی اُنہی منبروں پر فرمائے گا۔ لوگ تو خوفزدہ ہوں گے لیکن وہ بے خوف ہوں گے ۔ [2]یہی نہیں بلکہ حضرت سَیِّدُنا زَاہِر بن حَرام رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ دیہات کے رہنے والے تھے ، وہ گاؤں سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ہدیہ لاتے تھے  اور جب وہ واپس جانا چاہتے تو سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی انہیں سامان دیتے تھے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے :  زاہر ہمارے دیہاتی بھائی ہیں اور ہم زاہر کے شہری بھائی ہیں، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان سے بڑی مَحبَّت کرتے تھے ۔ [3]

مدنی مذاکروں اورمرکزی مجلسِ شوریٰ کے مدنی مشوروں سے ماخوذ یوم تعطیل اعتکاف کے متعلق مدنی پھول

٭ یومِ تعطیل اعتکاف کی ترکیب مَضْبُوط بنائی جائے ، اِس سے اطراف میں مدنی کام مضبوط ہوگا اور عُشر اِکٹھا کر نے کا مَوْقَع بھی ملے گا۔ [4]

 



[1]    معجم کبیر،۲ / ۳۸۲،حدیث:۳۳۵۷

[2]    تمهيد الفرش فی الخصال الموجبة لظلال العرش، ص ۱۸

[3]    شرح السنه،کتاب البر و الصلة،باب المزاح،۷ / ۳۹۷،حدیث:۳۶۰۴

[4]    بارہ مدنی کام،ص۴۵



Total Pages: 16

Go To