Book Name:Yume Tatil Atikaf

پر گِراں گزرتی ہیں مثلاً کسی کو نیکی کی دعوت پیش کی جائے تو جواب ملتا ہے :  ٭ کچھ دیر بعد آئیے گا، ابھی تو کام کا وَقْت ہے ٭ ابھی فُرْصَت نہیں کسی اور کے پاس جائیے ٭ ہم تو نَماز پڑھتے ہیں، آپ ان کو دَعْوَت دیں جو نہیں پڑھتے ۔ چُنَانْچِہ اس قسم کی مشکلات پر حُسْنِ اَخْلاق کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے صَبْر کر کے اَجرِ عظیم کے مُسْتَحِق بنیئے اور دل میں یہ تَصَوُّر جما لیجئے کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر بھی تکلیفیں آئیں، راہ میں کانٹے بچھائے گئے اور طائف میں پَتّھر برسائے گئے مگر پھر بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نیکی کی دعوت دیتے رہے ۔

تُو کمر بستہ رہا کر خدمتِ اسلام پر         راہِ مولیٰ میں جو آفت آئے اس پر صبر کر[1]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (9)  فارغ وقت کو کارآمد بنانے کا ذریعہ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! زِنْدَگی بے حد مُـخْتَصَر ہے ، گزرا وَقْت تا قِیامَت واپس نہ آئے   گا اور جو وَقْت مل گیا سو مل گیا، آئندہ ملنے کی اُمّید ایک  دھوکا ہے ، فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ہے : پانچ۵ چیزوں کو پانچ۵ سے پہلے غنیمت جانو (1) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے (2) صِحَّت کو بیماری سے  پہلے (3) مالداری کو تنگدستی سے پہلے (4) فُرْصَت کو مَشْغُولِیَّت سے پہلے اور (5)  زندَگی کو موت سے پہلے ۔ [2] چُنَانْچِہ ہفتہ وار چھٹی کو سارا دن سو کر یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگانے اور فُضُولیات میں صَرْف کرنے کے بجائے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ یوم تعطیل اِعْتِکَاف میں گزاریئے کہ آج اگر ہم نے اپنی قیمتی لمحات کو فضولیات میں ضائع کردیا تو آخِرَت میں سوائے حَسْرَت و اَفْسَوس  کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا، جیسا کہ حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے : اَہْلِ جنّت کو کسی چیز کا اَفْسَوس نہ ہوگا سوائے اُس گھڑی کے جو (دنیا میں) اللہ پاک کے ذِکر کے بِغیر گزَر گئی۔ [3]

کچھ نیکیاں کمالے جلد آخِرت بنالے        کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندَگی کا[4]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 (10)   جنّت کی بشارت پانے کا ذریعہ

میٹھے میٹھے اِسْلَامی بھائیو! یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَاف میں چونکہ شہر کے اَطراف اور گاؤں دیہات میں جا کر نیکی کی دَعْوَت پیش کرنا ہوتی ہے ، لِہٰذا عام مسلمانوں سے خندہ پَیشانی سے مُلَاقَات کرنے وغیرہ کا بھی بھرپور مَوْقَع ملتا ہے اور ایک رِوایَت میں اپنے مسلمان بھائی سے ملنے کے لئے شہر سے باہَر اطراف میں جانے والے کے لئے جنت کی بَشَارَت ہے ۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اَنَسْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ دو۲ عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: کیا میں تم کو  نہ بتاؤں کہ کون کون جَنّت میں جائے گا؟ ہم نے عَرْض کی: یَا رَسُولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ضرور بتایئے ۔ اِرشَاد فرمایا: نبی جَنّت میں جائے گا، صِدّیق جَنّت میں جائے گا اور وہ شخص بھی جو مَحْض اللہ پاک کی رِضا کے لئے اپنے کِسی مسلمان بھائی سے ملنے شَہر کے مُضافات میں جائے ۔ [5]

 (11)  مدنی کا موں کی مضبوطی کا ذریعہ

مَدَنی مَرْکَز کے دئیے گئے طریقۂ کار کے مُطابِق یَوْمِ تَعْطِیل اِعْتِکَافپر پابندی سے عَمَل کریں گے تو نہ صِرف مَدَنی مَقْصَد (یعنی مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصْلَاح کی کوشِش کرنی ہے ۔ اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّ) کے حُصُول میں کامیابی ملے گی بلکہ اطراف گاؤں میں دیگر مدنی کام بھی خوب مَضْبُوط ہوں گے ، مَثَلًاوہاں کیمَسَاجِد میں مَدَنی دَرْس کاسلسلہ شروع ہوگا،  صدائے مدینہ کی ترکیب بنائی جا سکے گی، مَدْرَسَةُ الْـمَدِیْنَه بالغان کی ترکیب بھی مَضْبُوط ہوگی۔ مُـخْتَلِف مدنی کورسز کے لئے اسلامی بھائی تیّار



[1]    وسائل بخشش(مرمّم)،ص۶۹۹

[2]    مستدرک للحاکم،۴۷-کتاب الرقاق،نعمتان مغبون فیھماالخ،۵ / ۴۳۵،حدیث:۷۹۱۶

[3]     معجم کبیر،بقیة الميم من اسمه معاذ، جبیر بن نفیر ... .الخ،۸ / ۴۲۴،حدیث:۱۶۶۰۸

[4]    وسائل بخشش،(مرمم) ص،۱۷۸

[5]    معجم اوسط،من اسمه احمد،۱ / ۴۷۲،حديث:۱۷۴۳



Total Pages: 16

Go To