Book Name:Yume Tatil Atikaf

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

یومِ  تعطیل اعتکاف

دُرُود شریف کی فضیلت

اَمِیرُ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدُنا علیُّ المرتضیٰ شیر خُدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مَرْوِی   ہے کہ اللہ پاک نے جَنَّت میں ایک دَرَخْت پیدا فرمایا ہے جس کا پھل سیب سے بڑا، اَنار سے چھوٹا، مکھن سے نَرْم، شہد سے بھی میٹھا اور مُشک سے بھی زِیادَہ خوشبودار ہے ، اس دَرَخْت کی شاخیں تَر موتیوں کی، تنے سونے اور پَتے زَبَرجَد کے ہیں۔ اس کا پھل وُہی کھا سکے گا جو کَثْرَت سے سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرود شریف پڑھے گا۔ [1]

وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جَنَّت کا      ہم مُفْلِس کیا مول چُکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے [2]

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                       صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اسلاف اورتبلیغِ علم دِین

حضرت سَیِّدُنا علّامہ احمد بن زَینی دَحْلان مکّی شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تیر ہویں (13ویں)  صدی ہجری کے جلیل القدر فقیہ، عظیم المرتبت عالِم، مُؤَرِّخْ اور مُفْتِیِ مکہ تھے ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شُمار اعلیٰ حضرت امامِ اَہْلِ سنّت اِمام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے عِلاوہ کئی جَیَّد عُلَمائے کرام کے اَسَاتِذہ میں ہوتا ہے ۔ آپ نے مَکَّةُ المُکَرَّمَہ میں عِلْمِ دین کی ترویج و اِشَاعت میں جو کردار ادا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے ، آپ نے جس بُلَند ہمتی سے عِلْم کی دولت حاصِل کی اسے خَرْچ کرنے میں بھی  بُخْل سے کام نہ لیا، بلکہ ہمیشہ فراخ دِلی کا مُظاہَرہ کیا اور ہر لمحہ شَریعَتِ مُطَھَّرَہ کی حِمَایَت و نُصْرَت اور اِشَاعت پر کمر بستہ رہے ، یہی نہیں بلکہ عِلْمِ دین سے غَفْلَت برتنے والوں کو دین و دنیا کی نَفْع مند باتیں سکھانے کو اپنا مَقْصَدِ حَیات بنا لیا۔ چُنَانْچِہ اس مَقْصَد کی تکمیل کے لئے آپ نے جو لائحہ عَمَل اِخْتِیار کیا، اس کی چند جھلکیاں مُلَاحَظہ ہوں:  

٭ آپ نے اپنے اِرادت مندوں اور طالب علموں کی تَربِیَت کا ایک ایسا اعلیٰ نظام قائم کیا کہ جہاں آپ انہیں زیورِ عِلْم سے آراستہ کرتے ، وہیں انہیں ہر طرح کی دُنْیَاوِی آلائشوں (یعنی میل کچیل، گندگی) اور بُرائیوں سے بھی دُور رہنے کی تَربِیَت دیتے ۔

٭ اگر ان میں سے کسی کو کسی خاص صَلَاحِیَّت کا حامِل پاتے تو اسے دوسروں کو سکھانے اور ان کی تَربِیَت کرنے کی ذِمَّہ داری عَطا فرماتے ۔ یوں چراغ سے چراغ جلتا گیا اور بَہُت کم عرصے میں مَسْجِدِ حَرام آپ کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں سے بھر گئی گویا ہر طرف عِلْم کی روشنی پھیل گئی۔

٭ جب آپ نے مَکَّةُ المُکَرَّمَہ میں ہر طرف عِلْم کے سمندر کو موجزن مُلَاحَظہ فرمایا تو اَطراف و مُضافات کو بھی اس سَعَادَت کا حق دار بنانے کے لئے خاص تَوَجُّہ دی۔

٭ تَبْلِیغِ قرآن و سنّت کے لئے مَکَّةُ المُکَرَّمَہ کے اَطراف میں نہ صِرف خود تشریف لے جاتے بلکہ اپنے شا گردوں کو بھی بھیج کر نیکی کی دَعْوَت کو عام کرنے کی سعی فرماتے ۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ اس مَقْصَد کے حُصُول کے لئے آپ نے طائف اور اَطراف کی بستیوں کی طرف سَفَر اِخْتِیار فرمایا  تو آپ کے ساتھ طلبہ اور عُلَمائے کرام کی بھی کثیر تعداد مَوجُود تھی۔

٭ اَطراف و مُضافات میں آپ کے مَدَنی دورے کا انداز یہ تھا کہ  جب کسی علاقے میں تشریف لے جاتے تو وہاں بسنے والے قبائل کے پاس جا کر انہیں اللہ پاک اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطَاعَت کی ترغیب دِلاتے اور ان کے عقائد و اَعمال میں سے جو کمی پاتے اسے دُور کرنے کی کوشش فرماتے ، نیز انہیں عقائد و اَعمال میں سے ہر وہ بات سکھاتے جس کی انہیں ضَرورت ہوتی۔

٭ لوگوں کے ساتھ اس قَدْر شَفْقَت و مَحبَّت سے پیش آتے کہ جب ایک گاؤں سے جانے کا اِرَادہ ظاہِرفرماتے تودوسرے گاؤں والے آحاضِر ہوتے ، جو نہ صِرف آپ کا



[1]    الحاوی للفتاوٰی للسیوطی،کتاب الادب و الرقائق،مجموع الاسئلة الناجية،ص۴۴۷

[2]     حدائق بخشش،ص۱۸۶



Total Pages: 16

Go To