Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

 

( 4 )... نماز قضا كرنا

نماز قضا کرنے کی تَعْریف

نماز کو اس کا وَقْت گُزَار کر پڑھنا نماز قضا کرنا ہے ۔

نماز قضا کرنے کی مِثَال

مثلاً نمازِ ظُہْر کے وَقْت میں مَحْض سستی کی یا کاموں میں اس طرح مصروف رہا کہ ظُہْر کا پورا وَقْت خَتْم ہو گیا اور نمازِ ظُہْر ادا نہ کی اب عَصْر کا وَقْت شروع ہونے کے بعد یا کسی اور وَقْت میں نماز ادا کی تو یہ نماز قضا کرنا کہلائے گا ۔

”نماز قضا کرنے “ کے متعلق مختلف اَحْکَام

( 1 ): بِلاعُذرِ شَرْعِی نماز قضا کر دینا بہت سَخْت گُنَاہ ہے ۔ اس پر فرض ہے کہ اس کی قضا پڑھے اور سچے دل سے تَوْبہ کرے ۔ تَوْبہ جب ہی ( یعنی اُسی وَقْت ) صحیح ہے کہ قضا پڑھ لے ۔( [1] ) ( 2 ): جو عَقلسلامت ہونے اور قُدْرَت رکھنے کے باوُجُود جان بوجھ کر نماز یا روزہ چھوڑ دے ہرگز اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا ۔( [2] ) ( 3 ): فقہائے کِرَام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں: سوتے میں  یا بُھولے سے نماز قضا ہو گئی تو اس کی قضا پڑھنی فَرْض ہے البتہ قضا کا گُنَاہ اس پر نہیں  مگر بیدار ہونے اور یادآنے پر اگر وَقْتِ مکروہ نہ ہو تو اُسی وَقْت پڑھ لے ، تاخیر مکروہ ہے ۔( [3] ) ( 4 ): جس کے ذمّے قضا نمازیں ہوں ان کا جلد سے جلد پڑھنا واجِب ہے مگر بال بچوں کی پَرْوَرِش اور اپنی ضروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر جائز ہے لہٰذا کاروبار بھی کرتا رہے اور فُرْصَت کا جو وَقْت ملے اس میں قضا پڑھتا رہے یہاں تک کہ پوری ہو جائیں ۔( [4] )

آیتِ مُبَارَکہ

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ( ۵۹ )( پ١٦، مريم: ٥٩ )       

ترجمۂ کنزالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخَلَف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں ( ضائع کیں )اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دَوزخ میں  غَیّ کا جنگل پائیں گے ۔

”غَیّ“ جہنّم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنّم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں ۔( [5] )

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

آج رات دو۲شَخْص ( یعنی حضرت جِبْرائیل عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت مِیکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ) میرے پاس آئے اور مجھے اپنے ساتھ ( اَرضِ مُقَدَّسہ میں ) لے آئے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک شَخْص لیٹا ہے اور اس کے سِرہانے ایک شَخْص پتّھر اُٹھائے کھڑا ہے اور پتّھر سے اُس کا سر کُچَل رہا ہے ، ہر بار کُچَلنے کے بعد سَر پھر ٹھیک ہو جاتا ہے ۔ میں  نے فِرِشتوں  سے کہا: سُبْحٰنَ اللہ! یہ کون ہے ؟ انہوں  نے عرض کی: آگے تشریف لے چلئے ( مزید مَنَاظِر دِکھانے کے بعد ) فِرِشتوں  نے عرض کی کہ پہلا شَخْص جو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا یہ وہ تھا جس نے قرآن پڑھا پھر اس کو چھوڑ دیا تھا اور فرض نمازوں  کے وَقْت سو جاتا تھا ۔( [6] )

نماز قضا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب

( 1 ): بے نمازیوں کی صُحْبَت ( 2 ): سستی وکاہلی ( 3 ): مال جَمْع کرنے کی حِرْص کہ ایسے لوگ کاروبار وغیرہ میں مَشْغُوْلِیت کے سبب نماز پڑھنے



[1]    بہارِ شریعت ،  حصہ چہارم ،  قضا نماز کا بیان ،  ۱ / ۷۰۰ ،  ملتقطًا.

[2]    فتاویٰ رضویہ ،  ۱۴ / ۴۰۹ ،  ملخصاً.                                            

[3]     بہارِ شریعت ،  حصہ چہارم ،  قضا نماز کا بیان ،  ۱ / ۷۰۱.

[4]     بہارِ شریعت ،  حصہ چہارم ،  قضا نماز کا بیان ،  ۱ / ۷۰۶ ،  بتغیر قلیل.

[5]    خزائن العرفان ،  پ۱۶ ،  مریم ،  تحت الآیۃ: ۵۹ ،  ص٥٧٨.

[6]    بخارى ،  كتاب التعبير ،  باب تعبير الرؤيا بعد صلاة الصبح ،  ص١٧١٤ ،  حديث: ٧٠٤٧ ،  ملخصًا.



Total Pages: 42

Go To