Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

کبھی کبھی ہو ( اور اس میں جھوٹ بھی نہ ہو ) ۔ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا حُضُورِ اَقْدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ثابِت ہے ۔( [1] )

آیتِ مُبَارَکہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّۚ      

( پ٢٦، الحجرات: ١١ )

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو نہ مرد مَردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دُور نہیں کہ وہ اِن ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں ۔

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

قیامت کے دِن لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کے سامنے جنّت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ! آؤ...!! وہ بہت بے چینی اور غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی دروازے کے پاس پہنچے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر ایک دوسرا جنّت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پُکارا جائے گا: آؤ! یہاں آؤ...!! یہ بے چینی اور رَنْج و غم میں ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا، اسی طرح اس کے ساتھ مُعَامَلہ ہوتا رہے گا یہاں تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکار پڑے گی تو وہ نااُمیدی کی وجہ سے نہیں جائے گا ۔( [2] )

تَـمَسْخُـر ( مذاق اُڑانے ) کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اسباب

( 1 ): نفرت وعَدَاوت ( 2 ): تکبُّر ( 3 ): خود پسندی ( 4 ): مذاق مسخری کی عادت ( 5 ): فُضُول گوئی ( 6 ): بُری صحبت ۔

تَـمَسْخُـر ( مذاق اُڑانے ) سے بچنے کے لئے

٭ زبان کا قُفْلِ مَدِیْنہ لگائیے کہ تَمَسْخُـر اور اس کے عِلاوہ بہت سارے گُنَاہ زِیادہ تر زبان سے ہی ہوتے ہیں لہٰذا اسے قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔ ٭ تَمَسْخُـر کے دُنْیَوی اور اُخْرَوی نقصانات اور اس کی تباہ کاریوں کے بارے میں غور کیجئے کہ کسی بھی مرض سے بچنے اور اس کا عِلاج کرنے کے لئے اس کے نقصانات اور تباہ کاریوں کا جاننا مُفِیْد ہوتا ہے ۔ ٭ دل میں اِحترامِ مُسْلِم کا جذبہ پیدا کیجئے اور مسلمان کی دل آزاری سے ہمیشہ بچتے رہئے ۔ اس کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد اِلیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کے رِسالے اِحترامِ مُسْلِمکا مُطَالعہ مُفِیْد ہے ۔ ٭ سلام اور مُصَافَحہ کرنے کی عادت اپنائیے ، اِنْ شَآءَ اللہ! دل سے نَفْرت وعَداوت نکلے گی اور مَحَبَّت بڑھے گی ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

زَہْرِیلے جانوروں سے مَحْفُوظ رہنے کی دُعا

نمازِ فجر اور نمازِ مَغْرِب کے بعد ہر روز تین۳بار یہ دُعا پڑھے اوّل وآخر تین۳تین۳  بار دُرُود شریف پڑھ لے :

اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّاۤ مَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

ترجمہ: میں اللہ پاک کے پورے اور کامِل کلمات کے ساتھ مخلوق کے شر سے پناہ لیتا ہوں ( یہاں مخلوق سے مُراد وہ مخلوق ہے جس سے شر ہو سکے ) ۔ ( [3] )

یہ دُعا سَفَر وحَضَر میں ہمیشہ ہی صُبْح وشام پڑھا کیجئے ، زَہْرِیلی چیزوں سے مَحْفُوظ رہیں گے ، بہت مُجَرَّب ہے ۔( [4] )  پھر یہ پڑھے :

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ( ۷۹ ) ( پ٢٣، الصفت: ٧٩ )

ترجمۂ کنزالایمان: نوح پر سلام ہو جہان والوں میں ۔

خدا نے چاہا تو زَہْرِیلے جانوروں سانپ بچھو وغیرہ سے مَحْفُوظ رہے گا ۔ نِہَایَت مُجَرَّب ہے ۔( [5] )

 



[1]    مراٰۃ المناجیح ،  خوش طبعی کا بیان ،  پہلی فصل ،  ۶ / ۴۹۳ ،  ماخوذًا.

[2]    موسوعة ابن ابى الدنيا ،  الصمت و آداب اللسان ،  ٧ / ١٨٣ ،  حديث: ٢٨٧.

[3]    مسلم ،  كتاب الذكر والدعاء    الخ ،  باب التعوذ من سوء القضاء    الخ ،  ص١٠٤٢ ،  حديث: ٢٧٠٩.

[4]    مراٰۃ المناجیح ،  خاص وقتوں کی دعائیں ،  پہلی فصل ،  ۴ / ۳۵.

[5]    اسلامی زندگی ،  ص۱۲۸ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۲۰.



Total Pages: 42

Go To