Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

( 21 )...تَجَسُّس ( عیب جُوئی )

تَجَسُّس کی تَعْرِیف

لوگوں کی خُفْیہ ( چھپی ہوئی ) باتیں اور عیب جاننے کی کوشش کرنا تَجَسُّس کہلاتا ہے ۔( [1] )

تَجَسُّس کی چند مِثَالَیں

٭ کسی سے یہ پوچھنا: رات دیر تک جاگتے رہتے ہو، فجر بھی پڑھتے ہو یا نہیں ؟ ٭ کسی نے نوکر رکھا تو اُس سے پوچھنا: آپ کا نیا نوکر برابر کام کرتا ہے یا نہیں ؟ یہ بھی بِلا اِجازتِ شَرْعِی پوچھنا عیب ڈھونڈنا ہے اور اس سوال کے جواب میں پورا خطرہ ہے کہ جس سے پوچھا گیا وہ نوکر کے بارے میں کام چور ہے ، حرام خور ہے وغیرہ کہہ کر گنہگار ہو جائے ۔( [2] ) ٭ اسی طرح بِلا اِجازتِ شَرْعِی کسی کا کوئی عیب مَعْلُوم کرنے کے لئے اس کاپیچھا کرنا، اس کے گھر میں جھانکنا وغیرہ بھی تَجَسُّس میں داخِل ہے ۔

”تَجَسُّس“ کے مُتَعَلِّق مختلف اَحْکَام

( 1 ): مسلمان کی عیب جُوئی ( یعنی اس کے عیب تلاش کرنا ) حرام ہے ۔( [3] ) ( 2 ): بے دِین، مُفْسِدِین ( فساد کرنے والوں ) کے حالات چُھپ کر دیکھنا سننا تا کہ ان کے فساد کی روک تھام ہو سکے ، جائز ہے ۔( [4] ) ( 3 ): نوکر رکھنے شَراکت داری ( یعنی پارٹنر شِپ کرنے ) یا کہیں شادی کا اِرادہ ہے تو حَسْبِ ضرورت مَعْلُومات کرنا گُنَاہ نہیں ۔( [5] )

آیتِ مُبَارَکہ

وَ لَا تَجَسَّسُوْا ( پ٢٦، الحجرات: ١٢ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اور عیب نہ ڈھونڈو ۔

یعنی مسلمانوں کی عیب جُوئی نہ کرو اور ان کے چُھپے حال کی جُسْتُجو میں نہ رہو جسے اللہ پاک نے اپنی سَتَّاری سے چُھپایا ۔( [6] )

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اے وہ لوگو جو زبان سے تو ایمان لے آئے ہو مگر تمہارے دِل میں ابھی تک ایمان داخِل نہیں ہوا! مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور نہ ان کے عُیُوب کو تلاش کرو کیونکہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرے گا اللہ پاک اُس کا عیب ظاہِر فرما دے گا اور اللہ پاک جس کا عیب ظاہِر فرما دے تو اُسے رُسوا کر دیتا ہے اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ( چُھپ کر بیٹھا ہوا ) ہو ۔( [7] )

تَجَسُّس کے گُنَاہ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اَسْبَاب

( 1 ): بُغْض وکینہ ( 2 ): حَسَد ( 3 ): چُغْل خوری کی عادت ( ایسا شَخْص ایک دوسرے تک باتیں پہنچانے کے لئے لوگوں کے عیب تلاش کرنے میں لگا رہتا ہے ) ۔

تَجَسُّس سے بچنے کے لئے

٭ اپنے عیبوں پر نظر رکھئے اور انہیں دُور کرنے میں لگ جائیے ۔ ٭ بے جا سوچنا چھوڑ دیجئے ۔ ٭ اللہ پاک کی رِضا کے لئے آپَس میں مَحَبَّت کیجئے



[1]    الحديقة الندية ،  الخلق الرابع و العشرون ،  ٣ / ١٦٠.

[2]    نیکی کی دعوت ،  ص۳۹٩ ،  بتقدم وتأخر.

[3]    فتاویٰ رضویہ ،  ۱۴ / ۲۷۱ ،  بتغیر.

[4]     مراٰۃ المناجیح ،  ابن صیاد کا بیان ،  پہلی فصل ،  ۷ / ۳۲۶ ،  بتغیر قلیل.

[5]     نیکی کی دعوت ،  ص۳۹۸.

[6]     خزائن العرفان ،   پ۲۶ ،  الحجرات ،  تحت الآیہ: ۱۲ ،  ص۹۵۰.

[7]     ابو داود ،  كتاب الادب ،  باب فى الغيبة ،  ص٧٦٥ ،  حديث: ٤٨٨٠.



Total Pages: 42

Go To