Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

”ماں باپ کی نافرمانی کی مِثَالَیں

٭ ماں باپ سے قطع تَعَلُّق کر لینا ٭ ان کے کسی کام کا حکم دینے پر ناگواری اور اکتاہٹ کا اِظْہَار کرنا ٭ ان کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرنا ٭ انہیں اولڈ ہاؤس ( Old house ) میں بھیج دینا ٭ بِلا وَجْہِ شَرْعِی کسی بات میں ان کی مُخَالَفَت کر کے انہیں ناراض کرنا وغیرہ ۔

”ماں باپ کی نافرمانی“ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام

( 1 ): ماں باپ کی نافرمانی حرام ہے ۔( [1] ) ( 2 ): ماں باپ نے واضِح لفظوں میں حکم نہیں دیا لیکن پتا ہے کہ کس بات میں ان کی رضا ہے اور کس میں ناراضی تب بھی ان کی رضامندی اور ناراضی کا خیال رکھنا ضروری ہے چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ان ( یعنی والِدَین ) کی نافرمانی اور ناراض کرنا دونوں حرام ہیں اور یہ ناراض اور راضی کرنا ان کے واضِح حکم کے ساتھ خاص نہیں ( یعنی اگر والِدَین نے حکم نہ بھی دیا ہو لیکن مَعْلُوم ہو کہ فلاں کام کرنے سے وہ ناراض ہوں گے تب بھی اس کام سے بچنا ضروری ہو گا ) ۔( [2] ) ( 3 ): والِدَین اگر کسی ناجائز بات کا حکم کریں تو اس میں اُن کی اِطَاعَت جائز نہیں ۔( [3] )

آیتِ مُبَارَکہ

وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-اِلَیَّ الْمَصِیْرُ( ۱۴ ) ( پ٢١،لقمٰن: ١٤ )

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رَکھا کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کا دودھ چھوٹنا دو۲ برس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آنا ہے ۔  

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

جس نے اس حال میں صُبْح کی کہ اپنے ماں باپ کا فرمانبردار ہے ، اس کے لئے صُبْح ہی کو جنت کے دو۲ دروازے کُھل جاتے ہیں اور ماں باپ میں سے ایک ہی ہو تو ایک دروازہ کُھلتا ہے اور جس نے اس حال میں شام کی کہ ماں باپ کے بارے میں اللہ پاک کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے جہنّم کے دو۲ دروازے کُھل جاتے ہیں اور ( ماں باپ میں سے ) ایک ہو تو ایک دروازہ کُھلتا ہے ۔ ایک شَخْص نے عرض کی: اگرچہ ماں باپ اس پر ظُلْم کریں ؟ فرمایا: اگرچہ ظُلْم کریں، اگرچہ ظُلْم کریں، اگرچہ ظُلْم کریں ۔( [4] )

ماں باپ کی نافرمانی میں پڑنے کے بَعْض اسباب

( 1 ): ماں باپ کے حُقُوق سے لاعلمی ( 2 ): مختلف گُنَاہ بِالْخُصُوص شراب نَوشی، جُوا، چوری وغیرہ ( یہ مُعَاشَرے میں والِدَین کے لئے سَخْت ذِلَّت ورُسوائی کا سبب بنتے ہیں ) ۔ ( 3 ): والِدَین کے درمیان کوئی ناراضی ہو تو ان میں سے کسی ایک کی طَرَف داری ۔ ( 4 ): دوستوں کو والِدَین پر ترجیح دینا ۔ ( 5 ): والِدَین کے حق کو ہلکا جاننا ۔ ( 6 ): بُری صُحْبَت ۔ ( 7 ): اچھی تَرْبِیَّت نہ ہونا ۔

والِدَین کا فرمانبردار بننے کے لئے

٭ عِلْمِ دین حاصِل کیجئے تا کہ والِدَین کے حُقُوق کا پتا چلے اور ان کی اَہمیت دل میں بیٹھے ۔ ٭ اچھی صُحْبَت اِخْتِیار کیجئے اور بُرے لوگوں کے ساتھ میل جول اور ان کے پاس اُٹھنے بیٹھنے سے اِجْتِناب ( یعنی پرہیز ) کیجئے ۔ ٭ ذاتی دوستیاں تَرْک کیجئے اور والِدَین کو زیادہ وَقْت دیجئے ۔ ٭ ان کی ہر بات پر لَبَّیْک کہتے ہوئے فوراً عَمَل کیجئے ۔ ٭ والِدَین کی نافرمانی اور ان کو تکلیف پہنچانے کے نَتَائج پر غور کیجئے کہ والِدَین کا نافرمان دنیا میں بھی سزا پاتا ہے اور جہنّم کے دَرْدناک عذاب کا حق دار بھی بنتا ہے ۔ ٭ گھر میں مدنی ماحول بنانے کے 19 مدنی پھولوں“ پر عمل کرنے سے بھی اِنْ شَآءَ اللہ! ان کی اِطاعَت کرنے اور نافرمانی سے بچنے کا ذِہْن بنے گا ۔

 



[1]     فتاویٰ رضویہ ،  ٢٢ / ١١٦.

[2]    فتاویٰ رضویہ ،  ۱۰ / ۶۷۹.      

[3]     فتاویٰ رضویہ ،  ۲۵ / ۲۰۴ ،  بتغیر قلیل.

[4]     شعب الايمان ،  فصل فى حفظ حق الوالدين    الخ ،  ٦ / ٢٠٦ ،  حديث: ٧٩١٦.



Total Pages: 42

Go To