Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اس ذات کی قَسَم جس کے قبضۂ قُدْرَت میں میری جان ہے ! جو شَخْص قسم کھائے اور اس میں مچھر کے پَر کے برابر جھوٹ مِلا دے تو وہ قسم تا یَوْمِ قِیامت ( یعنی قِیامت کے دن تک ) اُس کے دِل پر ( سِیاہ ) نکتہ بن جائے گی ۔( [1] )

جھوٹی قسم کے بَعْض اسباب

( 1 ): غَلَطی پر ہونے کے باوُجُود خود کو سچّا ثابِت کرنے کے لئے بہت مرتبہ جھوٹی قسم کھا لی جاتی ہے ۔ ( 2 ): دُنْیَوی نَفْع کا حُصُول ( 3 ): بات بات پر قسمیں کھانے کی عادَت کہ ایسے شَخْص کا جھوٹی قسم میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔ ( 4 ): اسی طرح جھوٹ کے اسباب مثلاً مُبَالغہ آرائی ( بڑھا چڑھا کر بَیَان کرنے ) کی عادت اور حُبِّ مَدَح یعنی اپنی تَعْرِیف کی خَواہِش کے باعِث بھی کبھی جھوٹی قسم کھا لی جاتی ہے ۔

جھوٹی قسم کھانے سے بچنے کے لئے

٭ جھوٹی قَسَم کے عذابات پڑھئے / سنئے ، اِنْ شَآءَ اللہ! اس گُنَاہ سے محفوظ رہنے کا ذِہْن بنے گا ۔ ٭ جھوٹی قَسَم کے دُنْیَوی نُقْصَانات پر غور کیجئے کہ جھوٹی قسمیں گھروں کو وِیران کر دیتی ہیں  اور ان کی وجہ سے مال سے برکت خَتْم ہو جاتی ہے وغیرہ ۔ ٭ دل سے مال ودولت کی حِرْص  خَتْم کیجئے تا کہ زِیادہ طَلَبی کی خواہش میں جھوٹی قَسَم کھانے کے گُنَاہ میں نہ جا پڑیں ۔

مَدَنی مشورہ: قسم کے بارے میں مزید مَعْلُومات کے لئے شیخِ طریقت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ ابوبِلال محمد اِلیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کے رِسالے ”قسم کے بارے میں مدنی پھولکا مُطَالعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

دُعائے مصطفٰے ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )

یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ

یعنی اے دِلوں کے پھیرنے والے ! میرے دِل کو اپنے دِین پر قائِم رکھ ۔( [2] )

یہ دُعا تَعْلیمِ اُمَّت کے لئے ہے تا کہ لوگ سُن کر سیکھ لیں ۔( [3] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: مجھ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہارے گُنَاہوں کے لیے مَغْفِرت ہے ۔( [4] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 17 )... ماں باپ کی نافرمانی

اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت مولانا  شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: جو بِلا وَجْہِ شَرْعِی ماں باپ کو اِیذا دے ، ان کی نافرمانی کرے شَرِیْعَت میں اُسے عَاق کہتے ہیں ۔( [5] )

 



[1]     صحيح ابن حبان ،  كتاب الحظر والاباحة ،  ص١٤٩١ ،  حديث: ٥٥٦٣.

[2]    ترمذى ،  كتاب القدر ،  باب ماجاء ان القلوب بين     الخ ،  ص٥١٧ ،  حديث: ٢١٤٠ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۳

[3]    مراٰۃ المناجیح ،  کتاب الایمان ،  باب القدر ،  دوسری فصل ،  ۱ / ۱۰۹.

[4]    تاريخ مدينة دمشق ، ٦١ / ٣٨١.

[5]     فتاویٰ رضویہ ،  ۶ / ٥٩٦.



Total Pages: 42

Go To