Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

کے گُنَاہ ہونے کا مطلقاً اِنکار کرے دائرہ اِسْلَام سے خارِج ہو کر کافِر ومُرتَد ہو جائے گا ) ۔ ( [1] ) نوٹ: تین۳ صورتوں میں جھوٹ بولنا جائز ہے یعنی اس میں گُنَاہ نہیں: ایک جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مُقَابِل کو دھوکا دینا جائز ہے ، دوسری صورت یہ ہے کہ دو۲ مسلمانوں میں اِخْتِلاف ہے اور یہ ان دونوں میں صُلْح کرانا چاہتا ہے ، تیسری صورت یہ ہے کہ بی بی ( زَوجہ ) کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات خِلَافِ واقِع کہہ دے ۔( [2] )

آیتِ مُبَارَکہ

قرآنِ مجید میں مُنَافِقِیْن کے مُتَعَلِّق فرمایا گیا ہے :

وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ( ۱۰ )   ( پ١،البقرة: ١٠ )

ترجمۂ کنز الایمان: اور اُن کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ اُن کے جھوٹ کا ۔

صَدْرُ الْاَفَاضِل علَّامہ سیِّد محمد نعیم الدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں: اس آیت سے ثابِت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عَذابِ اَلیم ( یعنی دَرْدناک عذاب ) مُرَتَّب ہوتا ہے ۔( [3] )

فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گُنَاہ کی طرف لے جاتا ہے اور گُنَاہ جہنّم کا راستہ دِکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ پاک کے نزدیک کَذّاب ( یعنی بہت بڑا جھوٹا ) لکھ دیا جاتا ہے ۔( [4] )

”جھوٹ“ میں مبتلا ہونے کے بَعْض اسباب

( 1 ): مال کی حِرْص کہ خرید وفروخت میں رَقَم بچانے یا زِیادہ مال کمانے کے لئے جھوٹ بولنا عام پایا جاتا ہے ۔ ( 2 ): مُبَالَغَہ آرائی ( بڑھا چڑھا کر بیان کرنے ) کی عادت: ایسے اَفْرَاد حد سے بڑھ کر جھوٹی مُبَالَغَہ آرائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ آج کل اَشْیاء کی مشہوری ( Avertisement ) میں اس طرح کی جھوٹی مُبَالغہ آرائی عام ہے ۔ ( 3 ): حُبِّ مَدَح یعنی اپنی تَعْرِیف کی خواہش، ایسے لوگ اپنی واہ واہ کے لئے جھوٹے واقِعَات بَیَان کرتے رہتے ہیں ۔ ( 4 ): فُضُول گوئی کی عادت ۔ ( 5 ): آج کل مُرَوَّتاً جھوٹ بولنا بھی عام پایا جاتا ہے مثلاً کسی نے سوال کیا: ”ہمارے گھر کا کھانا پسند آیا ؟“ تو مُرَوَّت میں آ کر کہہ دیا: ”جی، بہت پسند آیا ۔“ حالانکہ واقع میں اس کو کھانا پسند نہیں آیا تھا تو یہ بھی جھوٹ ہو گا ۔

جھوٹ سے بچنے کے لئے

٭ جھوٹ کی دُنْیَوی اور اُخْرَوی تباہ کاریوں پر غور کیجئے مثلاً جھوٹے سے لوگ نفرت کرتے ہیں، اس پر سے اِعْتِماد اُٹھ جاتا ہے ، جھوٹے پر لعنت کی گئی ہے اور جھوٹا دَوْزخ میں کُتّے کی شَکْل میں بدل دیا جائے گا، اس طرح غور وفِکْر کرتے رہنے سے اِنْ شَآءَ اللہ! سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کا ذِہْن بنے گا ۔ ٭ زبان کا قُفْلِ مَدِیْنہ لگاتے ہوئے صِرْف ضرورت کی بات ہی کیجئے اور بے جا بولتے رہنے کی عادت سے چھٹکارا حاصِل کیجئے ۔ ٭ مُبَالَغَہ کرنے کی عادت بھی ختم کیجئے اور بولنے سے پہلے سوچنے کی عادت اپنائیے ۔

مَدَنی مشورہ: جھوٹ کے متعلق مزید مَعْلُومات کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مَطْبُوعَہ کِتَاب بہارِ شریعت“ حصہ 3، صفحہ 515 تا 519 اور رسالہ ”جھوٹا چور کا مُطَالعہ کیجئے ۔

 



[1]    کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ،  ص۳۹۱ ،  ماخوذًا.

[2]     بہارِ شریعت ،  ۳ / ۵۱۷ ،  ملتقطًا وفتاوى هنديه ،  كتاب الكراهية ،  ٥ / ٤٣٢ ،  مفصلًا.

[3]    خزائن العرفان ،  پ۱ ،  البقرۃ ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۷.

[4]    مسلم ،  كتاب البر و الصلة و الآداب ،  باب قبح الكذب    الخ ،  ص١٠٠٨ ،  حديث: ٢٦٠٧.



Total Pages: 42

Go To