Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

بھی ممانعت آئی ہے ۔

 ( 7 ) مال ضائع کرنا :

   شرح اِبن بطال میں ہے :  مال کو ضائع کرنے کا کیا مطلب ہے اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے چنانچہ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مال کا ضیاع یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں  رزق دے اور تم اُسے وہاں خرچ کرو جہاں خرچ کرنااللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر حرام کیا ہے ۔  امام مالک کا بھی یہی قول ہے ۔  مہلب کہتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ فضول خرچ کرنا بھی مال کو ضائع کرنا ہے اگر چہ حلال چیزوں میں خرچ کیا جائے ۔  ( [1] )

اِسراف سے بچیں :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مال کے ضیاع اور اِسراف یعنی فضول خرچی سے بچیں کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔  علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں :  ’’لَاخَیْرَ فِی الْاِسْرَافِ وَلَا اِسْرَافَ فِی الْخَیْریعنی اسراف میں کوئی بھلائی نہیں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں کوئی اِسراف نہیں ۔ ‘‘ ( [2] )

اگر ہم غور کریں تو چھوٹے چھوٹے گھریلو معاملات سے لے کر بڑے بڑے کاروباری معاملات میں مال کے ضیاع اور اسراف جیسے ناپسندیدہ امور پائے جاتے ہیں ، مال کا ضیاع اور اسراف دراصل رب تعالیٰ کی نعمت کی ناشکری ہے جو یقینًا رزق میں تنگی کا باعث ہے ، کاش ہم مال ضائع نہ کریں ، اسراف سے اپنے آپ کو بچانے والے بن جائیں ۔  شیخ ِ طریقت امیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا اسراف سے بچنے کے حوالے سے مدنی ذہن ملاحظہ کیجئے ۔ آپ کی خدمت میں صحرائے مدینہ ( باب المدینہ کراچی ) میں فیضان مد ینہ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے عرض کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ’’ سنگ ِبنیاد میں عمومًا کھودے ہوئے گڑھے میں کسی شخصیت کے ہاتھو ں سے سیمنٹ کا گارا ڈلوا دیا جاتا ہے ، بعض جگہ ساتھ میں اینٹ بھی رکھوالی جاتی ہے لیکن یہ سب رسمی ہوتا ہے بعد میں وہ سیمنٹ وغیرہ کا م نہیں آتی ۔  مجھے تو یہ اِسراف نظر آتا ہے اور اگر مسجد کے نام پر کئے ہوئے چندے کی رقم سے اس طرح کا اسراف کیا جائے تو توبہ کے ساتھ ساتھ تاوان یعنی جو کچھ مالی نقصان ہوا وہ بھی ادا کرنا پڑے گا ۔ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ایک یادگاری تختی بنوا لیتے ہیں ، آپ اس کی پردہ کشائی فرمادیجئے گا ۔   ‘‘  توفرمایا : ’’پردہ کشائی کرنے اور سنگ بنیاد رکھنے میں فرق ہے ۔  پھر چونکہ ابھی میدان ہی ہے اس لئے شاید وہ تختی بھی ضائع ہوجائے گی ۔   ‘‘  بالآخرامیرِ اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا کہ : ’’جہاں واقعی ستون بنا نا ہے اس جگہ پر ہتھوڑے مار کر کھودنے کی رسم ادا کرلی جائے اور اس کو ’’سنگِ بنیاد رکھنا  ‘‘   کہنے کے بجائے ’’تعمیر کا آغاز  ‘‘   کہا جائے ۔ ‘‘ چنانچہ۲۲ ربیع النور شریف ۱۴۲۶ہجری یکم مئی 2005 عیسوی بروز اتوار ، آپ کی خواہش کے مطابق 25سیِّد مَدَنی منوں نے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے مخصوص جگہ پر ہتھوڑے چلائے ، آپ خود بھی اس میں شریک ہوئے اور اس نرالی شان سے فیضان مدینہ ( صحرائے مدینہ ، ٹول پلازہ ، سپر ہائی وے باب المدینہ کرچی ) کے تعمیری کام کا آغاز ہوا ۔  ( [3] )

سنت کی بہار آئی فیضان مدینہ میں

رحمت کی گھٹا چھائی فیضان مدینہ میں

اس شہر کے آئے ہیں باہر کے بھی آئے ہیں

سرکار کے شیدائی فیضان مدینہ میں

مقبول جہاں بھر میں ہو دعوت اسلامی

ہر لب پہ دعا آئی فیضان مدینہ میں

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہوا ور اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین

مدنی گلدستہ

’’امام احمد رضا  ‘‘  کے 11حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

 اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 11مدنی پھول

(1)   والدین کی نافرمانی سے ہردم بچنا چاہیے خصوصًا ماں کی نافرمانی بہت شدید ہے ، احادیث مبارکہ میں اس کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ۔

(2)   اگر کسی کے ذمے کوئی حق ہوتو اسے چاہیے کہ دنیا میں ہی اس کی ادائیگی کی ترکیب بنالے کیونکہ کل بروز قیامت اسے ادا کرنا بہت مشکل ہوجائے گا ، بلکہ سراسر خسارہ  اٹھا نا پڑے گا ۔

(3)   سب سے مفلس شخص وہ ہے جو کل بروز قیامت اپنی نیکیوں کے ساتھ آئے گا مگر لوگوں کے جو اس نے حق تلف کیے ہوں گے ان کے سبب وہ اپنی تمام نیکیوں سے محروم کردیا جائے گا ۔

دنیا میں اگر کسی کے کچھ پیسے دینا ہوں تو جلد از جلد ادائیگی کردیجئے کیونکہ جو دنیا میں کسی کے تین پیسے دَین ( یعنی قرض ) دبالے گا بروزِ قیامت اُسے اِس کے بدلے سات سو

 



[1]      شرح بخاری لابن بطال ، کتاب  الاستقراض ۔ ۔ ۔ الخ ، باب ما ینھی عن اضاعۃ المال ، ۶ / ۵۲۸ ۔

[2]     غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۱۰۷ ۔

[3]     تعارف امیر اہلسنت ، ص۴۹ ۔



Total Pages: 42

Go To