Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

سُودی لَین دَین سے بچنے کے لئے

٭ قَناعَت اِخْتِیار کیجئے ۔ ٭ لمبی امیدوں سے کنارہ کَشی کیجئے اور موت کو کثرت سے یاد کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ! دل سے دنیا کی مَحَبَّت نکلے گی اور آخرت کی تیاری کرنے کا ذِہْن بنے گا ۔ ٭ سُود کے عذابات اور اس کے دُنْیَوِی نقصانات کو پڑھئے / سنئے اور غور کیجئے کہ یہ کس قَدْر تباہی وبربادی کا سبب بنتا ہے ۔

مَدَنی مشورہ: سُود کے بارے میں تفصیلی مَعْلُومات جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کِتاب سُود اور اس کا عِلاج کا مُطَالعہ کیجئے ۔ 

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

ادائے قَرْض کی دُعا

اَللّٰہُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ

وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ

ترجمہ: اے اللہ! مجھے حلال رِزْق عطا فرما کر حرام سے بچا اور اپنے فَضْل وکَرَم سے اپنے سِوا غیروں سے بے نیاز کر دے ۔( [1] )

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: جس نے مجھ پر صبح وشام دس دس باردُرُود ِ پاک پڑھا اُسے قیامت کے دن میری شَفاعَت ملے گی ۔( [2] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 13 )... رِشْوَت ( Bribery )

رِشْوَت کی تَعْرِیف

جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے ( وہ ) رِشْوت ہے یونہی جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکِم کو ( یا حاکِم کے عِلاوہ کسی اور کو بھی ) دیا جائے ( وہ ) رِشْوت ہے لیکن اپنے اوپر سے دَفْعِ ظُلْم ( یعنی ظُلْم دُور کرنے ) کے لئے جو کچھ دیاجائے ( وہ ) دینے والے کے حق میں رِشْوت نہیں ،یہ دے سکتا ہے ( لیکن ) لینے والے کے حق میں وہ بھی رِشْوت ہے اور اسے لینا حرام ( ہے ) ۔( [3] )

رِشْوَت کے لَین دَین کی مِثَالیں

٭ زید نے کسی کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے کے لئے حاکِم کو ایک لاکھ روپے دئیے تو یہ ایک لاکھ روپے رِشْوت ہیں ۔ ٭ اسی طرح بَکْر نے مَنْصب پانے کے لئے افسر کو 50 ہزار روپے دئیے تو یہ 50 ہزار روپے بھی رِشْوت ہیں ۔

”رِشْوَت“ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام

( 1 ): رِشْوت کا لَین دَین قطعی حرام اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔( [4] )

( 2 ): رِشْوت لینا دینا اور دونوں کے درمیان دَلَّالی ( Dealing ) کرنا حرام وگُنَاہ ہے ۔( [5] ) ( 3 ): جس نے کوئی مال رِشْوت سے حاصِل کیا ہو تو اس پر فَرْض ہے کہ جس جس سے وہ مال لیا انہیں واپس کر دے ، اگر وہ لوگ زندہ نہ رہے ہوں تَو ان کے وارِثوں کو وہ مال دے دے ، اگر دینے والوں کا یا ان



[1]    مستدرك حاكم ،  كتاب الدعاء والتكبير    الخ ،  ٢ / ٢٣٠ ،  حديث: ٢٠١٦ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۷.

[2]    مجمع الزوائد ،  كتاب الاذكار ،  باب مايقول اذا اصبح واذا امسى ،  ١٠ / ١٢٠ ، حديث: ١٧٠٢٢.

[3]    فتاویٰ رضویہ ،  ۲۳ / ۵۹۷.      

[4]     کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ،  ص۱۸۱.

[5]    جہنم کے خطرات ،  ص۷۱.       



Total Pages: 42

Go To