Book Name:Gunaho ke Azabat Hissa 1

۔ ( 2 ): طُوْلِ اَمَل ( یعنی لمبی اُمید ) کہ ابھی بہت عُمْر باقی ہے پہلے یہ یہ کام ہو جائیں اس کے بعد حج کر لیں گے ۔

حج کرنے کا ذِہْن پانے کے لئے

٭ قبر کی تنگی ووَحْشَت اور قِیامت کی ہَولْناکیوں پر غَور کیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ! دل سے دنیا کی مَحَبَّت نکلے گی، بُخْل کا خاتِمہ ہو گا  اور راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کا ذِہْن بنے گا ۔ ٭ موت کو کَثْرت سے یاد کیجئے اس سے لمبی امیدیں خَتْم ہوں گی، دل گُنَاہوں سے بيزار ہو گا اور نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کرنے کی مدنی سوچ بنے گی ۔

مَدَنی مشورہ: حج کا طریقہ اور تفصیلی اَحْکَام جاننے کے لئے شَیْخِ طَریْقَت، اَمِیْرِ اہلسنت حضرت علَّامہ مولانا ابو بِلال محمد الیاس عطَّار قادِری دَامَتْ بَـرَکَاتُہُمُ الْعَالِـیَہ کی کِتَاب رَفِیْقُ الْحَرَمَیْن اور دعوتِ اسلامی کے اِشَاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کِتاب ”بہارِ شریعت“، حصہ6 کا مُطَالَعہ کیجئے ۔

حلقوں میں یاد کروائی جانے والی دُعا

گھر سے نکلتے وَقْت کی دُعا

بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ

ترجمہ: اللہ پاک کے نام سے ، میں نے اللہ پاک پر بھروسا کیا، گُنَاہ سے بچنے کی قُوَّت اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ پاک ہی کی طرف سے ہے ۔( [1] )

اس دُعا کے پڑھنے پر غیبی فرشتہ پڑھنے والے سے کہتا ہے کہ تُو نے بِسْمِ اللہ کی بَرَکَت سے ہِدَایت پائی اور تَوَکُّلْ عَلَی اللہ کے وسیلہ سے کِفَایَت اور لَا حَوْل کے واسطہ سے حِفاظَت ۔( [2] )

٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

دُرُود شریف کی فضیلت

فرمانِ مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: جو مجھ پر ایک دن میں 50بار درودِ پاک پڑھے قِیامت کے دن میں اس سے مُصَافَحَہ کروں گا ۔( [3] )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

( 8 )...خُود کُشِی ( Suicide )

خُودْ کُشِی کا معنی

خُودْ کُشِی کا معنی ہے : خود کو ہلاک کرنا ۔

”خودکُشِی“ کے مُتَعَلِّق  مختلف اَحْکَام

( 1 ): خودکُشِی گُنَاہِ کبیرہ( [4] ) اور جہنّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ ( 2 ): جس نے خودکُشِی کی حالانکہ یہ بہت بڑا گُنَاہ ہے مگر اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی ۔( [5] )

آیتِ مُبَارَکہ

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا( ۲۹ )وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا( ۳۰ )         

( پ٥،النسآء: ٢٩، ٣٠ )

 



[1]    ابو داود ،  كتاب الادب ،  ص٧٩٦ ،  حديث: ٥٠٩٥ ومدنی پنج سورہ ،  ص۲۰۵.

[2]    مراة المناجيح ،  خاص وقتوں کی دعائیں ،  دوسری فصل ،  ٤ / ٤٨.

[3]    القربة الى رب العلمين ، باب صفة الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم    الخ ،  ص٩١ ،  حديث: ٩٠.

[4]    رسائل ابن نجيم ،  الرسالة الثالثة و الثلاثون فى بيان الكبائر    الخ ،  ص٣٥٤.

[5]    بہارِ شریعت ،  حصہ۴ ،  نمازِ جنازہ کا بیان ،  ۱ / ٨۲۷.

والدر المختار ،  كتاب الصلاة ،  باب صلاة الجنازة ،  ص١١٩ ،  ملتقطًا.



Total Pages: 42

Go To