Book Name:Tazkira Ameer Ahl-e-Sunnat Qisst 8

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْن ط

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط

فَیضَانِ مَدَنی مُذاکَرَہ

دُرُود شریف کی فضیلت

شہنشاہِ دوجہان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ”جو مجھ پر شبِ جُمعَہ اور جُمعَہ کے روز سو بار دُرُود شریف پڑھے ، اللہ پاک اُس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا، ستر آخرت کی اور تیس دنیا کی “ ۔ (جامع الاحادیث ، ۳ / ۷۵، حدیث : ۷۳۷۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!علم ایک نور ہے ۔ اس کی نورانیت و اہمیت کسی سے مخفی نہیں ۔  عالم ہو یا جاہل، غریب ہو یا امیر کوئی  بھی علم کی فضیلت و ضرورت کامنکر نہیں ۔  علم ہی کی وجہ سے علما کو وارثِ انبیا ٹھہرایا گیا، ساری ساری رات جاگ کر عبادت کرنے والے پر اگر کسی کو فضیلت ملی تو علم ہی کی وجہ سے ملی ۔  اہل ِعلم کی فضیلت اور مقام اللہ  پاک نے یوں بیان فرمایا :  

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- (پ۲۳، الزمر : ۹)

ترجمۂ کنز الایمان : تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ۔

قراٰنوحدیث اور اقوالِ بزرگانِ دین میں علمِ دین کی بے حد اَہَمِیَّت  و فضیلت وارِد ہوئی ہے  ۔ قدرتِ الٰہی کو  جس کے درجات کی بلندی منظور ہوتی ہے ، اسے علمِ دین کی دولت عطا کی جاتی ہے ، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱) (پ۲۸، المجادلة : ۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان : اللہتمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا، درجے بلند فرمائے گا اوراللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے ۔

وِرَاثَتِ سرورِ کائنات

نبیٔ رحمت، شفیعِ اُمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے علم کی شان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اَلْعِلْمُ مِيرَاثِي وَمِيرَاثُ الأَنْبِيَاءِ قَبْلِيیعنی علم (علمِ دین) میری اور مجھ سے پہلے انبیا  کی میراث ہے  ۔ (جامع صغیر، حرف العین، ص۳۵۲، حدیث : ۵۷۱۹ )  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج لوگوں کی اکثریت فقط دنیوی تعلیم حاصل کرنے اور اس کے ذریعے مال سمیٹنے میں مصروف ہے  ۔ علمِ دین کی نسبت دنیوی مال کو فوقیت دی جاتی ہے  حالانکہ اصل مال ودولت تو علم ہے چنانچِہ

علم اور علما کی مال اور مالداروں پر فضیلت

مولائے کائنات، امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ارشاد فرماتے ہیں : علم مال سے بہتر ہے ۔ علم تیری حفاظت کرتا ہے جبکہ مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑتی ہے  ۔ علم پھیلانے سے بڑھتا ہے جبکہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے ۔ عالم سے لوگ محبت کرتے ہیں ۔  عالم علم کی بدولت اپنی زندگی میں اللہ پاک کی اطاعت بجالاتا ہے ۔ عالم کے مرنے کے بعد بھی اس کا ذکرِ خیر باقی رہتا ہے ، جبکہ مال کا فائدہ اس کے زوال کے ساتھ ہی ختم ہوجاتاہے اور یہی معاملہ  مالداروں کا ہے کہ دنیا میں مال ختم ہوتے ہی ان کا نام تک مٹ جاتا ہے ، اس کے برعکس علما کا نام رہتی دنیا تک باقی رہتا ہے ۔ مالداروں کے نام لینے والے کہیں نظر نہیں آتے جبکہ علمائے دین کی عزت اور مقام ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں قائم رہتا ہے  ۔ (حلیۃ الاولیاء، علی بن ابی طالب، ۱ / ۱۲۱، رقم : ۲۴۳)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                         صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کونسا علم سیکھنا فرض ہے ؟

دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ فیضان ِ سنّت جلد دوم کے باب’’نیکی کی دعوت‘‘صفحہ135پرفرض علوم کے بارے میں امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :

سرکارِدوعالم، نُورِمجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِم ٍ یعنی علم حاصل کرناہر مسلمان پرفرض ہے ۔ (اِبن ماجۃ، کتاب السنۃ ، باب فضل العلماء ۔ ۔  ۔ الخ، ۱ / ۱۴۶، حدیث : ۲۲۴)

اس حدیثِ پاک سے اسکول کالج کی مُرَوَّجہ دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضروری دینی علم مُرادہے  ۔ لہٰذا سب سے پہلے اسلامی عقائد کا سیکھنا فرض ہے ، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائط ومُفسِدات( یعنی وہ تمام باتیں جن سے نماز صحیح صحیح ادا ہو جائے ، اور وہ باتیں جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے )پھر رَمَضانُ المُبارَک کی تشریف آوَری ہوتوجس پر روزے فرض ہوں اُس کیلئے روزوں کے ضَروری مسائل ، جس پر زکوٰة فرض ہو اُس کے لئے زکوٰة کے ضَروری مسائل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے ، نکاح کرنا چاہے تو نکاح کے ، تاجر کو تجارت کے ، خریدار کو خریدنے کے ، نوکری کرنے والے اورنوکر رکھنے والے کو اِجارے کے ، وَعلٰی ھٰذا الْقِیاس(یعنی اسی پر قِیاس کرتے ہوئے )ہر مسلمان عاقِل و بالغ مردو عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابِق مسائل سیکھنا فرضِ عَین ہے  ۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنافرض ہے  ۔ نیز مسائلِ قلب(باطِنی مسائل)یعنی فرائضِ قَلبِیہ(باطِنی فرائض) مَثَلًا عاجِزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اوران کو حاصِل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مَثَلًا تکبُّر،



Total Pages: 20

Go To