Book Name:Jannati Zevar

        اے اﷲ ! تو میرے پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے تو میری معذرت کو قبول کر اور تو میری حاجت کو جانتا ہے میرا سوال مجھ کو عطا کر اور جو کچھ میرے نفس میں ہے تو اسے جانتا ہے تو میرے گناہوں کو بخش دے اے اﷲ ! میں تجھ سے اس ایمان کا سوال کرتا ہوں جو میرے قلب میں سرایت کر جائے اور یقین صادق مانگتا ہوں تاکہ میں جان لوں کہ مجھے وہی پہنچے گا جو تو نے میرے لئے لکھا ہے اور جو کچھ تو نے میری قسمت میں کیا ہے اس پر راضی رہوں اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔

        نماز اور اس دعا سے فارغ ہو کر ملتزم کے پاس جائے اور اپنا سینہ اور پیٹ اور رخساروں کو دیوار کعبہ سے ملے اور دونوں ہاتھ سر سے اونچے کرکے دیوار پر پھلائے یا داہنا ہاتھ دروازہ کعبہ اور بایا ں ہاتھ حجراسود کی طرف پھیلائے اور یہ دعا خوب رو رو کر اور گڑگڑا کر مانگے۔   

دعاء ملتزم

یَا وَاجِدُ یَا مَاجِدُ لَاتَزِلُ عَنِّیْ نِعْمَۃً اَنْعَمْتَھَا عَلَیَّ۔

اے قدرت والے اے بزرگ تو نے مجھے جو نعمت دی ہے اس کو مجھ سے زائل نہ کر۔

        اس کے علاوہ اور دوسری دعائیں بھی یہاں مانگو کہ یہ مقبولیت کی جگہ ہے اور مقبولیت کا وقت بھی ہے اس کے بعد زمزم شریف کے نلوں کے پاس آؤ اور کھڑے ہو کر ادب کے ساتھ کعبہ مکرمہ کی طرف منہ کرکے تین سانس میں خوب بھر پیٹ پیو ہر بار بسم اﷲ  سے شروع کرو اور الحمدﷲ پر ختم کرو اور ہر بار نگاہ اٹھا کر کعبہ مکرمہ کو دیکھو بچا ہوا پانی اپنے سر اور بدن پر ڈال لو زمزم شریف پینے کی دعا یہ ہے۔

دعائے زمزم اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَا فِعاً وَّرِزْقاً وَّاسِعاً وَّ عَمَلاً مُّتَقَبَّلاً وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَآءٍ ۔

        اے اﷲ ! میں تجھ سے علم نافع اور کشادہ روزی اور عمل مقبول اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔

        پھر حجراسود کے پاس آکر اس کو چومو اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ اور درود شریف پڑھتے رہو۔

صفا و مروہ کی سعی : ۔پھرباب الصفا سے نکل کر صفا پہاڑی کی جانب چلو اور اس پر چڑھتے ہوئے یہ پڑھو۔

اَبْدَئُ بِمَابَدَأَ اﷲ  بِہٖ اِنَّ الصَّفَاوَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِاﷲ  فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا وَمَنْ تَطَوَّ عَ خَیْرًا فَاِنَّ اﷲ شَاکِرُٗ عَلِیْمُٗ

        میں اس سے شروع کرتا ہوں جن کو اﷲ  نے پہلے ذکر کیا بیشک صفا و مروہ اﷲ کی نشانیوں سے ہیں جس نے حج یا عمرہ کیا اس پر ان کے طواف میں گناہ نہیں اور جو شخص نیک کام کرے تو بے شک اﷲ  بدلہ دینے والا جاننے والا ہے۔

        پھر کعبہ معظمہ کی طرف منہ کر کے دونوں ہاتھ کندھوں تک دعا کی طرح پھیلے ہوئے اٹھاؤ اور تھوڑی دیر تسبیح و تہلیل و تکبیر اور درود شریف پڑھ کر اپنے لئے اور دوستوں کے لئے دعا مانگو کہ یہاں دعا قبول ہوتی ہے۔

        پھر اس طرح سعی کی نیت کرو۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ السَّعْیَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ

        یعنی اے اﷲ  میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا ارادہ کرتا ہوں اس کو تو میرے لئے آسان فرمادے اور اس کو تو میرے طرف سے قبول فرمالے۔

        پھر صفا سے اتر کر مروہ کو چلو اور درود شریف اور دعاؤں کا پڑھنا برابر جاری رکھو جب سبز رنگ کا نشان آئے تو یہاں سے دوڑنا شروع کرو یہاں تک کہ دوسرے سبز نشان سے آگے نکل جاؤ اور مروہ تک پہنچویہاں بھی تکبیر، تسبیح اورحمد وثنا اوردرودشریف پڑھو اوریہ دعا مانگو ، یہ ایک پھیرا ہوا پھر یہاں سے صفا کو چلو اور سبز نشان کے پاس پہنچو تو دوڑو اور دوسرے نشان سے آگے نکل جاؤ یہاں تک کہ صفا پر پہنچ کر بدستور سابق دعائیں مانگو اسی طرح سے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک اور صفا سے مروہ تک آؤ پھر جاؤ یہاں تک کہ ساتواں  پھیرا مروہ پر ختم ہو ہر پھیرے میں اسی طرح کرو اور دونوں سبز رنگ کے نشانوں کے درمیان ہر پھیرے میں دوڑ کر چلتے رہو طواف کعبہ اور سعی کرلینے سے تمہارا عمرہ جس کا احرام باندھ کر آئے ادا ہوگیا اب سرمنڈا کر یا بال کٹوا کر احرام اتار لو اور غسل کرکے سلے ہوئے کپڑے پہن لو اور بلا احرام کے مکہ مکرمہ میں مقیم رہو اور روزانہ جس قدر زیادہ سے زیادہ ہو سکے نفلی طواف کرتے رہو۔

منیٰ کو روانگی : ۔پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھو اور ایک نفلی طواف میں رمل اور صفا مروہ کی سعی کر لو اور مسجد حرام میں دو رکعت سنت احرام کی نیت سے پڑھو اس کے بعد حج کی نیت کرو اور لبیک پڑھو اور جب آفتاب نکل آئے تو منیٰ کو چلو اگر ہو سکے توپیدل جاؤ کہ جب تک مکہ مکرمہ پلٹ کر آؤ گے ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں لکھی جائیں گی یہ نیکیاں تقریباً اٹھتر کھرب چالیس ارب بنتی ہیں راستہ بھر لبیک اور حمد و ثنا و درود شریف پڑھتے رہو جب منیٰ نظر آئے تو یہ دعا پڑھو۔

اَللّٰھُمَّ ھٰذَا مِنیً فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا مَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اَوْلِیَائِ کَ۔

الہٰی یہ منیٰ ہے مجھ پر تو وہ احسان کر جو اپنے اولیاء پر تو نے کیا ہے۔

        منیٰ میں رات بھر ٹھہرو اور ظہر سے نویں ذوالحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں یہاں کی ’’مسجد خیف‘‘ میں پڑھو اور بار بار لبیک بلند آواز سے پڑھتے رہو اور جس قدر ہو سکے رو رو کر دعائیں مانگو۔

میدان عرفات میں : ۔نویں ذوالحجہ کو آفتاب طلوع ہوجانے کے بعد اب میدان عرفات کو چلو دل کو خیال غیر سے پاک صاف کر کے اور یہ سوچتے ہوئے نکلو کہ آج وہ دن ہے کہ بہت سے خوش بختوں کا حج مقبول ہوگا اور بہت سے لوگ ان کے صدقے میں بخشے جائیں گے جو آج کے دن محروم رہا وہ واقعی محروم ہے راستہ بھر لبیک بے شمار بار پڑھتے چلو جب ’’جبل رحمت‘‘ پر نظر پڑے اور زیادہ گڑگڑا کر بلند آواز سے لبیک پڑھو اور اپنی دنیاوی و دینی مرادوں اور اپنے حج کی مقبولیت کے لئے دعائیں مانگتے میدان عرفات میں پہنچ کر اپنے معلم کے خیمہ میں اتر کر ٹھہرو دوپہر تک زیادہ وقت رونے گڑگڑانے میں اور صدقہ و خیرات کرنے میں گزارو اور لبیک و درود شریف و کلمہ توحید اور استغفار پڑھتے رہو حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ آج کے دن سب سے بہتر



Total Pages: 188

Go To