Book Name:Jannati Zevar

احرام : ۔جب جدہ دو تین منزل رہ جاتا ہے تو جہاز والے سیٹی بجا کر احرام باندھنے کی اطلاع دیتے ہیں جب وہ جگہ آجائے تو غسل کریں اور مسواک کے ساتھ وضو کریں اور ایک نئی یا دھلی چادر کا احرام باندھ لیں اور ایسے ہی ایک چادر اوڑھ لیں اور احرام کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھیں پہلی رکعت میں الحمد کے بعد قل یا ایھاالکفرون اور دوسری میں قل ھو اﷲ پڑھیں نماز سے فارغ ہو کر احرام باندھنے کی دعا پڑھیں ۔ (بہارشریعت، ح۶، ص۳۸)   

ضروری ہدایت : ۔یاد رکھو کہ حج کا احرام تین طرح کا ہوتا ہے ایک یہ کہ خالی حج کرے اس حاجی کو ’’مفرد‘‘ کہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہاں سے فقط عمرہ کی نیت کرے اور عمرہ ادا کرکے مکہ مکرمہ میں حج کا احرام باندھے ایسے حاجی کو ’’متمتع‘‘ کہتے ہیں تیسرا یہ کہ حج و عمرہ دونوں کے لئے یہیں سے نیت کرے یہ سب سے افضل ہے اس کو قِرَان کہتے ہیں اور ایسے حاجی کو قارن کہا جاتا ہے  (بہار شریعت، حصہ۶، ص۳۸)    مگر ان تینوں قسموں میں تمتع زیادہ آسان ہے اور اکثر ہندوستانی لوگ یہی احرام باندھتے ہیں اس لئے ہم یہی آسان طریقہ لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ۔

        دو رکعت نماز سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھے۔

        اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ فَیَسِّرْھَا لِیْ وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ نَوَیْتُ الْعُمْرَۃَ وَاَحْرَ مْتُ بِھَا مُخْلِصًا لِّـلّٰہِ تَعَالٰی۔

        اے اﷲ  میں عمرہ کا ارادہ کرتا ہوں اس کو تو میرے لئے آسان کردے اور میری طرف سے قبول فرمالے میں نے عمرہ کی نیت کی اور اس کا احرام باندھا خالص اﷲ   تَعَالٰی کے لئے۔

        اس نیت کی دعا کے بعد بلند آواز سے لبیک پڑھے لبیک یہ ہے :

        لَـبَّـیْکَ ط اَللّٰھُمَّ لَـبَّـیْکَ ط لَـبَّـیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَـبَّـیْکَ ط اِنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَ ط

        یعنی میں تیرے پاس حاضر ہو ااے اﷲ ! میں تیرے حضور حاضر ہوا میں تیرے حضور حاضر ہوا تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوا بے شک تعریف اور نعمت اور بادشاہی تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے۔ 

        جہاں جہاں دعا میں وقف کی علامت (ط) بنی ہے وہاں وقف کر لے اور لبیک کی دعا تین مرتبہ پڑھے پھر درود شریف پڑھے پھر دل لگا کر اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے اور یہ دعا پڑھے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ۔

        اے اﷲ  میں تیری رضا اور جنت کا سائل ہوں اور تیرے غضب اور جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔

        لبیک پڑھ لینے کے بعد احرام بندھ گیا اب جتنی چیزیں احرام کی حالت میں منع ہیں مثلاً سلا ہوا کپڑا پہننا‘ سر چھپانا‘ شکار کرنا‘ خوشبو لگانا‘ حجامت بنوانا‘ جوں مارنا وغیرہ ان سب چیزوں سے بچے اور اٹھتے بیٹھتے ہر وقت خاص کر سحر کے وقت لبیک برابر بلند آواز سے پڑھتا رہے۔

طواف کعبہ مکرمہ : ۔   جب مکہ مکرمہ میں پہنچ جائے تو سب سے پہلے مسجد حرام میں جائے اگر وضو نہ ہو تو وضو کرے اور طواف شروع کرنے سے پہلے مرد اپنی چادر کو داہنی بغل کے نیچے سے نکالے کہ داہنا مونڈھا کھلا رہے اور چادر کے دونوں کنارے بائیں مونڈھے پر نکال دے اب کعبہ کی طرف منہ کر کے حجر اسود کی دا ہنی طرف رکن یمانی کی جانب حجر اسود کے قریب یوں کھڑا ہوکہ پوراحجر اسود اپنے داہنے ہاتھ کے سامنے رہے پھر طواف کی نیت کرے اور نیت یہ ہے۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوَافَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ۔

        یعنی اے اﷲ ! میں تیرے عزت والے گھر کے طواف کا ارادہ کرتا ہوں لہٰذا تو اس کو میرے لئے آسان کردے اور اس کو میری طرف سے قبول فرمالے۔   

        اس نیت کے بعد کعبہ کو منہ کئے اپنی دا    ہنی طرف چلو جب حجراسود بالکل تمہارے منہ کے سامنے ہو (اور یہ بات ایک ذرا حرکت کرنے میں حاصل ہو جائے گی کیونکہ پہلے حجراسود داہنے ہاتھ کے سامنے تھا اب ذرا سا ہٹ جانے سے منہ کے سامنے ہو جائے گا) اب کانوں تک دونوں ہاتھ اس طرح اٹھاؤ کہ ہتھیلیاں حجراسود کی طرف رہیں اور کہو :

بِسْمِ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ط وَاللّٰـہُ اَکْـبَـرُ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ط

        اگر آسانی سے ہوسکے تو حجر اسود پر دونوں ہتھیلیاں اور ان کے بیچ میں منہ رکھ کر یوں بوسہ دے کہ آواز نہ پیدا ہو تین بار ایسا ہی کرو اور اگر بھیڑ کی وجہ سے اس طرح بوسہ لینا نصیب نہ ہوتو ہاتھ رکھ کرہاتھ کو چوم لو یا اس پر چھَڑی رکھ کر چھَڑی کو چوم لو یہ بھی نہ ہو سکے تو ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر کے اپنا ہاتھ چوم لو اب طواف کے لئے دروازہ کعبہ کی طرف بڑھو جب حجراسود کے سامنے سے گزر جاؤ سیدھے ہو لو خانہ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر کرکے اس طرح چلو کہ کسی کو ایذا مت دو پہلے تین پھیروں میں مرد کو رمل کرنا چاہئے یعنی چھوٹے چھوٹے قدم رکھتا شانے ہلاتا ہوا بہادروں کی طرح چلے نہ کودتے ہوئے نہ دوڑتے ہوئے اور جب حجر اسود کے پاس پہنچے تو بوسہ دے یا اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے ہاتھ کوچوم لے دعائیں پڑھتے ہوئے طواف کرے معلم دعائیں پڑھاتے ہوئے طواف کراتے ہیں لیکن ان دعاؤں کا پڑھنا فرض یا واجب نہیں اگر یہ دعائیں یاد نہ ہوں تو درود شریف پڑھتے ہوئے طواف کے ساتوں چکر پورے کرے جب ساتوں پھیرے پورے ہوجائیں تو پھر حجراسود کو بوسہ دے یا اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر چوم لے حجر اسود کو پہلی بار جب چوما اس وقت سے لبیک پڑھنا بند کردے طواف کے بعد مقام ابراہیم پر آکر یہ آیت پڑھو  وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ    (پ۲، البقرۃ : ۱۲۵)

 پھر دو رکعت نماز پڑھو پہلی رکعت میں قل یا یھاالکفرون اور دوسری رکعت میں قل ھواﷲ  پڑھو یہ نماز واجب ہے اور اس کا نام ’’تحیۃ الطواف‘‘ہے نماز کے بعد یہ دعا نہایت روتے گڑگڑاتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر پڑھے۔

مقام ابراہیم کی دعا

        اَللّٰھُمَّ اِنّکَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَا نِیَتِیْ فَاقْبِلْ مَعْذِرَتِیْ وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَعْطِنِیْ سُؤَالِیْ وَتَعْلَمُ مَافِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَانًا    یُّبَا شِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْناً صَادِ قاً حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّہٗ لَا یُصِیْبُنِیْ اِلَّا مَا کَتَبْتَ لِیْ وَرِضاً مِّنْکَ بِمَا قَسَمْتَ لِیْ یٰاَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔

 



Total Pages: 188

Go To