Book Name:Jannati Zevar

یہاں سے منٰی کو چلا جانا (۱۴)دس اور گیارہ کے بعد جو دونوں راتیں ہیں ان کو منیٰ میں گزارنا اور اگر تیر ہویں کو بھی منیٰ میں رہا تو بارہویں کے بعد کی رات بھی منیٰ میں رہے(۱۵)’’ابطح‘‘ یعنی وادی محصَّب میں اترنا اگرچہ تھوڑی ہی دیر کے لئے ہو ۔ (بہار شریعت، ح۶، ص۱۸)

ضروری تنبیہ : ۔حج کے فرائض میں سے اگر ایک فرض بھی چھوٹ گیا تو حج ہو گا ہی نہیں اور حج کے واجبات میں سے اگر کسی واجب کو چھوڑدیا خواہ قصداً چھوڑا ہو یا سہواً تو اس پر ایک دَم واجب ہے اور اس کا حج باطل نہیں ہوا ہاں البتہ بعض واجب ایسے بھی ہیں کہ ان کے چھوڑنے سے قربانی لازم نہیں ہوتی مثلاً طواف کے بعد کی دو رکعتیں تحیۃ الطواف واجب ہیں ۔لیکن اگر کوئی چھوڑ دے تو اس پر قربانی لازم نہیں اور حج کی سنتوں میں سے اگر کوئی سنت چھوڑ دے تو اس سے نہ تو حج باطل ہوگانہ قربانی لازم ہوگی ہاں البتہ حج کے ثواب میں کچھ کمی آجائے گی۔      

(ردالمحتار، کتاب الحج، مطلب فی فروض الحج ، ج۳، ص۵۴۲)

سفر حج و زیارت کے آداب : ۔ہر حاجی کو چاہئے کہ روانگی سے پہلے ضروریات سفر پرانے حاجیوں سے معلوم کرکے مہیا کرے اور مندرجہ ذیل آداب و ہدایات کا خاص طور سے خیال رکھے۔

(۱)سب سے پہلے نیت کو درست کرے کہ اس سفر سے مقصود صرف اﷲ  عَزَّ وَجَلَّ  و رسول صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہوں اس کے سوا نا موری یا شہرت یا سیرو تفریح یا تجارت وغیرہ کا ہرگز ہرگز دل میں خیال نہ لائے۔

(۲)نماز روزہ زکوٰۃ جتنی عبادات اس کے ذمہ واجب ہوں سب کو ادا کرے اور توبہ کرے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پکاارادہ کرے اسی طرح اس کے اوپر جن جن لوگوں کا قرض ہو سب کا قرض ادا کرے جن جن لوگوں کی امانتیں ہوں ان کی امانتوں کو ادا کرے جن جن لوگوں کے حقوق اس کے ذمے ہوں سب سے حقوق معاف کرائے یا ادا کرے جن جن لوگوں پر کوئی زیادتی کی ہو ان سے معاف کرائے جن جن لوگوں کی اجازت کے بغیر سفر مکروہ ہے جیسے ماں ‘ باپ‘ شوہر‘ ان کو رضا مند کرکے اجازت حاصل کرے ان تمام چیزوں سے فارغ اور سبکدوش ہو کر سفر حج و زیارت کے لئے روانہ ہو۔

(۳)عورت کے ساتھ جب تک کہ اس کا شوہر یا بالغ محرم قابل اطمینان نہ ہو جن سے اس عورت کا نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہو اس وقت تک عورت کے لئے سفر حرام ہے عورت اگر بلا شوہر یا بغیر محرم کے حج کرے گی تو اس کا حج ہو جائے گا مگر ہر ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔(کتاب المناسک ملا علی قاری، کتاب الادعیۃ الحج والعمرۃ، فصل فی الوداع وفصل فی الرکوب، ص۵۴۵)

(۴)رقم یا تو شہ جو کچھ ساتھ لے چلے مال حلال سے لے ورنہ حج مقبول ہونے کی امید نہیں اگر چہ فرض ادا ہو جائے گا اگر اپنے مال میں کچھ شبہ ہو تو چاہئے کہ کسی سے قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے مال سے ادا کرے رقم اور تو شہ اپنی حاجت سے کچھ زیادہ ہی لے تاکہ رفیقوں کی مدد اور فقیروں کو صدقہ دیتا چلے کہ یہ حج مبرور کی نشانی ہے۔

(۵)چونکہ سفر کرنے والے مختلف حیثیتوں کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی ضرورت کے مطابق سفر کا سامان اپنے ساتھ لے جائے تاکہ سفر میں تکلیفوں کا سامنا نہ کرنا پڑے سب حاجیوں کے لئے سامانوں کی یکساں مقدار معین نہیں کی جا سکتی پھر بھی ایک اوسط درجہ کے حاجی کے لئے سفر حج و زیارت میں مندرجہ ذیل سامان کا ساتھ لے لینا آرام و راحت کا باعث ہوگا۔  

        گرمی اور سردی کے موسموں کے لحاظ سے ایک ہلکا بستر جس میں ایک دری دو چادریں ایک اونی شال ایک تکیہ ہو ایک بکس جس میں کپڑے اور دوسرے سامان رکھے جا سکیں ۔ ایک ٹین یا لکڑی کا صندوق جس میں متفرق سامان کو رکھا جاسکے۔ ایک بوری کا تھیلا جس میں سب برتنوں کو رکھا جاسکے۔ برتنوں میں ایک بڑی بالٹی‘ ایک لوٹا‘ ایک گلاس‘ چھوٹی بڑی چار پلیٹیں ‘ دو پیالے تام چینی کے ‘اگالدان‘ چھوٹی بڑی دو دیگچیاں ‘ ایک بڑا اور دو تین چھوٹے بڑے چمچے اگر چند قسم کے کھانوں کا عادی ہو تو اسی انداز سے کھانے پکانے کے برتن ساتھ لے جائے ایک برتن مٹی کا بھی ضرور رکھ لے یا مٹی اور پتھر کی کوئی چیز رکھ لے تاکہ اگر جہاز میں بیمار ہوگیا اور تیمم کی ضرورت پڑی  اس پر تیمم کر سکے پانی رکھنے کیلے ٹین کے پیپے بھی لانے چاہئیں کہ جہاز پر کام دیں گے اور جس منزل یا مکان میں ٹھہرو گے وہاں بھی اس کی ضرورت پڑے گی اسٹوو اور کوئلہ والا چولہا بھی سفر میں ساتھ ہونا بہت ضروری ہے پہننے کے کپڑوں میں پانچ کرتے‘ پانچ پاجامے‘ پانچ بنڈیاں ‘ دو تہبند‘ دو صدریاں ‘ ایک عمامہ‘ چار ٹوپیاں ‘ ہاتھ منہ پونچھنے کے دو رومال‘ دو تولئے‘ احرام کی چادریں ‘ کفن کا کپڑا ساتھ میں رکھیں اور بہتر یہ ہے کہ احرام کے دو جوڑے ہوں کہ اگر میلا ہوا تو بدل سکیں ایک بھیڑ کے بالوں کا دیسی کمبل یا موٹے پلاسٹک کا دو گز لمبا اور ڈیڑھ گز چوڑا ٹکڑا ساتھ ہونا بہت ہی آرام دہ ہے کہ جہاں چاہو بچھا کر لیٹ بیٹھ جاؤ پھر اٹھا لو مختلف سامان میں نزلہ زکام اور قبض و پیچش اور قے دست و بدہضمی کی مجرب دوائیں ضرور ساتھ میں رکھ لو کیونکہ کم ہی حجاج ان امراض سے محفوظ رہتے ہیں اور اگر تم کو خود ضرورت نہ پڑی تو کسی ضرورت مند کو تم نے دے دی تو وہ اس کسمپرسی کی حالت میں تمہارے لئے کتنی دعائیں دے گا آئینہ‘ سرمہ‘ کنگھا‘ مسواک ساتھ رکھو کہ یہ سنت ہے ان کے علاوہ ایک چھری‘ ایک چاقو‘ دو ایک بوریاں ‘ ستلی‘ سوا‘ سوئی‘ دھاگہ‘ حج و زیارت وغیرہ کے مسائل کی کچھ کتابیں ‘ چند قلم‘ پنسل‘ دوات‘ سادی کاپیاں ‘ قرآن مجید‘ چھڑی‘ چھتری‘ ٹارچ‘ کچھ موم بتیاں ‘ کچھ دیا سلائیاں بھی ضرور لے لو کچھ پھٹے پرانے کپڑے بھی ضرور ساتھ رکھو کہ ان کو پھاڑ پھاڑ کر صافی بنا سکو اور جہاز پر قے وغیرہ صاف کرنے اور استنجا وغیرہ سکھانے میں کام دیں گے کھانے پینے کی چیزوں کو بیان کرنیکی حاجت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں لوگوں کی حالتیں اور ان کے کھانے پینے کی عادتیں اور ذوق مختلف ہیں اور ہر شخص جانتا ہے کہ ہمیں کن کن چیزوں کی ضرورت ہوگی اور ہم کس طرح گزر بسر کر سکتے ہیں اس لئے ہر شخص کو چاہئے کہ گیہوں ‘ چاول‘ دال‘ گھی‘ تیل‘ مسالے وغیرہ اپنے ذوق اور ضرورت کے مطابق لے لے اچار چٹنی اگر ساتھ ہو یا کاغذی لیموں کچھ لے لے تو جہاز پر ان چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے چائے اور شکر بھی ضرور لے لے کہ سمندر کی مرطوب ہوا میں چائے کی ضرورت بہت زیادہ پڑتی ہے سمندری سفر میں منہ کا ذائقہ بہت خراب رہتا ہے اور اکثر سوندھی چیزیں کھانے کو دل چاہتا ہے اس لئے کچھ پا پڑ یا نمکین دال‘ سویاں ‘ بھنے ہوئے چنے رکھ لومگر بند ڈبوں میں رکھو ورنہ سمندری ہوا سے بدمزہ ہوجائیں گے۔ عرب میں سگریٹ بہت ملتاہے۔ مگر بیڑی اور پان بہت کم اور بے حد گراں ملتا ہے اس لئے ہندوستان ہی سے اس کا انتظام کر لینا چاہئے ضرورت کی تمام چیزیں ساتھ ہوں یہ بہت اچھا ہے لیکن یاد رکھو کہ سفر میں جس قدر کم سے کم سامان ہوگا اتنا ہی زیادہ آرام ملے گا سامان کی کثرت بعض جگہوں پر بہت بڑی مصیبت بن جاتی ہے اس کا خیال رکھو اپنے ہر سامان کے بنڈل پر اپنا اور اپنے معلم کا نام ضرور لکھ دو اس سے جدہ میں سامان تلاش کرتے وقت بڑی آسانی ہوتی ہے۔

 



Total Pages: 188

Go To