Book Name:Jannati Zevar

روزہ توڑ ڈالنے کا کفارہ : ۔اگر کسی وجہ سے رمضان کا یا کوئی دوسرا روزہ ٹوٹ گیا تو اس روزہ کی قضا لازم ہے لیکن بلا عذر رمضان کا روزہ قصداً کھا پی کر یا جماع کر کے توڑ ڈالنے سے قضا کے ساتھ کفارہ ادا کرنا بھی واجب ہے روزہ توڑ ڈالنے کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام یا لونڈی خرید کر آزاد کرے اور نہ ہو سکے تو لگا تار ساٹھ روزے رکھے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے کفارہ میں روزہ رکھنے کی صورت میں لگا تار ساٹھ روزے رکھنا ضروری ہیں اگر درمیان میں ایک دن کا بھی روزہ چھوٹ گیا تو پھر سے ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے ۔           (ردالمحتارمع الدرالمختار، کتاب الصوم، مطلب فی الکفارۃ ، ج۳، ص۴۴۷)

کب روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے : ۔شرعی سفر‘ حاملہ عورت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ‘ دودھ پلانیوالی عورت کے دودھ سوکھ جانے کا ڈر‘ بیماری‘ بڑھاپا‘ کمزوری کی وجہ سے ہلاک ہو جانے کا خوف یا کسی نے گردن پر تلوار رکھ کر مجبور کر دیا کہ روزہ نہ رکھے ورنہ جان سے مار ڈالے گا یا کوئی عضو کاٹ لے گا یا پاگل ہوجانا یا جہاد کرنا یہ سب روزہ نہ رکھنے کے عذر ہیں ان باتوں کی وجہ سے اگر کوئی روزہ نہ رکھے تو گنہگار نہیں لیکن بعد میں جب عذر جاتا رہے تو ان چھوڑے ہوئے روزوں کو رکھنا فرض ہے ۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصیام، فصل فی العوارض، ج۳، ص۴۶۲۔۴۶۳)

مسئلہ : ۔شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا کہ نہ اب روزہ رکھ سکتا ہے اور نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ رکھ سکے گا تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور اس کو لازم ہے کہ ہر روزہ کے بدلے دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلائے یا ہر روزہ کے بدلے صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دے دیا کرے۔(الدرالمختارمع ردالمحتار، کتاب الصیام، فصل فی العوارض، ج۳، ص۴۷۱۔۴۷۲)

مسئلہ : ۔جن لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے ان کو اعلانیہ کھانے پینے کی اجازت نہیں ہے وہ لوگوں کی نگاہوں سے چھپ کر کھا پی سکتے ہیں ۔

چند نفلی روزوں کی فضیلت

عاشورائ : ۔یعنی دسویں محرم کا روزہ اور بہتر یہ ہے کہ نویں محرم کو بھی روزہ رکھے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا روزہ ہے۔  

 (مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، رقم ۱۱۶۳، ص۵۹۱)

اور ارشاد فرمایا کہ عاشورا کا روزہ ایک سال پہلے کے گناہ مٹا دیتا ہے ۔(مسلم ، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام۔۔۔الخ، رقم۱۱۶۲، ص۵۸۹)

عرفہ : ۔ یعنی نویں ذوالحجہ کا روزہ حضور اقدس صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا کہ عرفہ کا  روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔

(مسلم ، کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام۔۔۔الخ، رقم۱۱۶۲، ص۵۸۹)

        حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسول اللہ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَعرفہ کے روزہ کو ہزاروں روزوں کے برابر بتاتے تھے مگر حج کرنے والوں کو جو میدان عرفات میں ہوں ان کو اس روزہ سے منع فرمایا ۔ (المعجم الأوسط، رقم ۶۸۰۲، ج۵، ص۱۲۷)

شوال کے چھ روزے : ۔رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال کے روزے رکھے تو وہ ایسا ہے جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اور فرمایا جس نے عید کے بعد چھ روزے رکھے تو اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔ (مسلم ، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ...الخ، رقم۱۱۶۴، ص۵۹۲)

شعبان کا روزہ اور شب برأت : ۔رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ جب شعبان کی پندرھویں رات (شب برأت) آئے تو اس رات میں قیام کرو یعنی نفل نمازیں پڑھو اور اس دن میں روزہ رکھو کہ اﷲ  تَعَالٰی سورج ڈوبنے کے بعد سے آسمان دنیا پر خاص تجلی فرماتا ہے اور اعلان فرماتاہے کہ کیا ہے کوئی بخشش کا طلب گار! کہ میں اس کو بخش دوں ؟ کیا ہے کوئی روزی طلب کرنے والا! کہ میں اسے روزی دوں ؟ کیا ہے کوئی گرفتار ہونے والا! کہ میں اس کو رہائی دوں ؟ کیا ہے کوئی ایسا! کیا ہے کوئی ایسا! اس قسم کی ندائیں ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔   (مشکاۃالمصابیح ، کتاب الصلٰوۃ، باب قیام شہررمضان، رقم۱۳۰۸، ج۱، ص۳۷۵)

ایام بیض کے روزے : ۔یعنی ہر مہینے کی تیرہ‘ چودہ‘ پندرہ تاریخوں کے روزے رسول اﷲ  صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا کہ ہر مہینے کے تین روزے ایسے ہیں جیسے ہمیشہ کا روزہ۔

 (سنن ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجاء فی صوم ثلاثۃ۔۔۔الخ، رقم ۷۶۲، ج۲، ص۱۹۴)

 اور فرمایا کہ جس سے ہو سکے ہر مہینے میں تین روزے رکھے ہر روزہ اس دن کے گناہ مٹاتا ہے اور وہ شخص گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسے پانی کپڑے کو پاک کر دیتا ہے ۔

(المعجم الکبیر، رقم۶۰، ج۲۵، ص۳۵)

         حضرت عبداﷲ بن عباس

Total Pages: 188

Go To